کراچی (عبدالماجد بھٹی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی 61 رنز کی شکست کے بعد کولمبو میں پاکستانی ٹیم انتظامیہ سر جوڑ کر بیٹھ گئی۔ پاکستان کو جیت کے فارمولا کی تلاش ہے۔ نمیبیا کے خلاف بدھ کو ہونے والے آخری گروپ میچ کیلئے حکمت عملی کی تیاری شروع کردی ہے۔ پاکستان کو سپر ایٹ میں جانے کیلئے نمیبیا کو شکست دینا ہوگی۔ میچ بارش کی نذرہوجائے تب بھی پاکستان سپر ایٹ میں پہنچ جائےگا۔ نمیبیا ایسوسی ایٹ ملک کی کمزور ٹیم ہے لیکن خوف یہ ہے کہ اسے پاکستان ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹین کی خدمات حاصل ہیں جو پاکستان کے تمام کھلاڑیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ پیر کو پاکستانی کھلاڑیوں نے آرام کیا، منگل کو پریکٹس سیشن میں حصہ لے گی۔ پاکستانی شائقین بھارت کے خلاف میچ میں صرف شاہین سے ہی ناراض نہیں تھے بلکہ سابق کپتان بابر اعظم اورصائم ایوب بھی تنقید کی زد میں آئے۔ پاکستانی بیٹنگ کی ناقص کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صاحبزادہ فرحان صفر، صائم ایوب چھ، سلمان آغا چار، بابر اعظم پانچ، شاداب خان 14، محمد نواز چار، فہیم اشرف 10، ابرار احمد صفر اور عثمان طارق بھی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ بھارت کے خلاف سینئرکھلاڑیوں کے پرفارم نہ کرنے پر مایوس ہے۔ اگلے میچ میں بابر اعظم، شاہین آفریدی کو ڈراپ کرنے اور سینئر کھلاڑیوں کی جگہ بینچ اسٹرنتھ کو موقع دینے پرغور ہورہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ نمیبیا کے خلاف دو سے تین تبدیلیوں کا امکان ہے۔ پاکستان کی بدترین کارکردگی سے سابق کرکٹرز بھی ٹیم سے ناراض ہیں ۔ نجی ٹی وی کے مطابق سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو نمبییا کے خلاف بابراعظم، شاہین آفریدی اور شاداب خان کو باہر بٹھاتا، ان کی جگہ باہر بیٹھے نئے لڑکوں کو موقع دیتا۔ یہ سینئرز پلیئرز کب سے کھیل رہے ہیں لیکن اتنے اہم میچ میں کارکردگی نہ دکھائیں تو ٹیم میں ان کی موجودگی کا کوئی فائدہ نہیں ۔ انہوں نے کپتان کے فیصلوں پر بھی تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ فہیم اشرف کو بولنگ نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے، جو اپنے ٹرمپ کارڈ عثمان طارق کو 10 اوورز کے بعد کیوں لایا گیا؟ سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا کہ ایک بندے کو کرکٹ کا کچھ پتا ہی نہیں اور آپ اس کو کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنادیں تو انجام تو یہی ہوگا، یہ ایسا ہی ہے کہ مجھے نیوز کا کچھ نہیں پتا اور آپ مجھے کسی نیوز چینل کا ہیڈ بنادیں تو میں کیا کروں گا جب مجھے کچھ معلوم ہی نہیں ہوگا ۔ اس حال میں کیسے ٹیم چلے گی، ایک بندے کو آپ نے سپراسٹار بنایا ہوا جو ایک میچ نہیں جتواسکتا اور ایک ایسے بولر کو سپر اسٹار بنایا ہوا ہے جو 10 اوورز تک نہیں کرواسکتا، جب اس قسم کے اسٹارز منتخب کروگے تو انجام یہی ہوگا۔ بھارت کی کرکٹ بہت آگے چلی گئی ہے اور ہم بہت پیچھے رہہ گئے ہیں، دونوں ٹیموں کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے، بس ٹی وی میں بیٹھ کر ہم باتیں کرسکتے ہیں ۔ تاہم میں پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرنا تو نہیں چھوڑ سکتا، چاہے ہم ہارتے رہیں، یہی دعا کرسکتا ہوں کہ پاکستان نمیبیا کو شکست دے اور اگلے مرحلے میں داخل ہو۔