کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سندھ ہائی کورٹ نے سابق جج جسٹس (ر) آفتاب احمد گورڑ کی بطور چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ اپیلیٹ ٹریبونل برطرفی کےخلاف درخواست مسترد کردی۔ دو رکنی بینچ کے سربراہ عدنان الکریم میمن نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی کابینہ کے نوٹیفکیشن میں کوئی قانونی سقم نہیں ہے۔ درخواست گزار جسٹس ( ر) آفتاب احمد گورڑ نے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ جون 2024 میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی سفارش پر تین سالہ مدت کے لئے چیئرمین مقرر کیا گیا تھا لیکن درخواست گزار کو یکطرفہ طور پر عہدے سے ہٹایا گیا جبکہ مقررہ مدت کے لئے کی گئی تقرری پر مدت سے قبل برطرف نہیں کیا جاسکتا برطرفی سے صاف ظاہر ہے کہ صوبائی کابینہ کا اقدام بدنیتی اور عدالتی خودمختاری کے خلاف ہے اور یہ بات واضح کرنے کی پھر سے ضرورت ہے کہ عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ رکھنا لازم ہے کیونکہ بغیر کسی شوکاز نوٹس یا سماعت کئے بغیر ڈی نوٹیفائی کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔