لاہور (آصف محمود بٹ) پنجاب حکومت نے صوبے کو اسلحہ سے پاک بنانے کی مہم کو تیز کرنے کیلئے پنجاب سرنڈر آف الیسٹ آرمز ایکٹ 2026 کا نظرثانی شدہ اور زیادہ جامع مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت غیر قانونی اسلحہ لازمی طور پر جمع کرانے، لائسنس ہولڈرز کی جانچ پڑتال اور خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا وسیع قانونی نظام تجویز کیا گیا ہے۔غیر قانونی اسلحہ میں توپیں، سب مشین گنز، دھماکہ خیز مواد ، بارودی سرنگیں،شاٹ گن، پسٹل، ریوالور اور فائر آرم سائلنسر شامل۔ کم از کم گریڈ 16 کا افسر کسی بھی لائسنس ہولڈر کو اسلحہ لائسنس، ہتھیار اور گولہ بارود معائنہ کیلئے پیش کرنے کا حکم دے سکے گا۔"جنگ" کو حاصل دستاویزات کے مطابق یہ مسودہ پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے تیار کیا ہے جسے حتمی جانچ پڑتال کیلئے صوبائی محکمہ داخلہ، محکمہ قانون اور محکمہ استغاثہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ محکمہ قانون اور پراسیکیوشن سے قانونی جانچ کے بعد اسے وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور بعد ازاں پنجاب اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔یہ بل تقریباً چار ماہ بعد دوبارہ مرتب کیا گیا ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2025 میں سی سی ڈی کی جانب سے پیش کردہ مسودہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں زیر بحث آیا تھا جہاں محکمہ قانون اور محکمہ پراسیکیوشن نے اس امر پر تحفظات ظاہر کئے تھے کہ سنگین جرائم میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی حوالگی اور انہیں تلف کر نے کا طریقہ کار واضح نہیں۔محکمہ داخلہ نے یہ بھی زور دیا تھا کہ ایسے ہتھیار جن کے لائسنس کی مدت ختم ہو چکی ہے یا تجدید نہیں کرائی گئی، انہیں بھی لازمی طور پر جمع کرانے کی شق قانون میں شامل کی جائے۔