تحریر:ایس این سبزواری ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ نے خطے میں کشیدگی کو شدید بڑھا دیا ہے۔ ایران کا مؤقف اب واضح ہے "جنگ تم نے شروع کی، مگر اسے ختم ہم اپنی شرائط پر کریں گے۔"ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی شہادت اور ان کے جانشین آیت اللہ مجتبیٰ خامنہای کے منصب سنبھالنے کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ شہید رہبرِ اعلیٰ کی حکمتِ عملی اور اسٹریٹجک تسلسل پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گا، اور موجودہ جنگ دراصل اسی نقشے کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے جس کی بنیاد امام علی خامنہای نے رکھی تھی۔"ایران کے شہید رہبرِ امام علی خامنہای کئی مواقع پر یہ مؤقف ظاہر کر چکے تھے کہ آنے والے 25 برسوں میں خطے میں اسرائیل کا وجود نظر نہیں آرہا۔اسی تصور کو موجودہ جنگی حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ سمجھا جا رہا ہے، اور موجودہ رہبر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہای اسے اسی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ایران اپنے اسٹریٹجک اہداف کے تحت اب کس نئے مرحلے میں داخل ہونا چاہتا ہے؟ اور اپنی جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے اسرائیل کو کس حد تک محدود یا کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گا؟ یہی وہ بنیادی نکات ہیں جنہیں سمجھے بغیر موجودہ جنگ اور خطے کی آئندہ سیاست کو درست طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔تمام دفاعی مبصرین اور بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کے مطابق، ایران نے اپنی سابقہ "اسٹریٹجک صبر" (Strategic Patience) کی پالیسی ترک کر کے "فعال اور بے مثال "بھرپور جوابی کارروائی" Proactive / Full-Spectrum Retaliationکے نئے نظریے کا اعلان کیا ہے۔ دیکھا جائے تو بیشتر بین الاقوامی ماہرین اور تجزیہ نگار اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ امریکہ نہ ایران کے جوہری پروگرام کو روک سکا، نہ اس کے میزائل پروگرام کو تباہ کر سکا اور نہ ہی حکومتی تبدیلی لا سکا۔ بلکہ اس حملے کے بعد ایران کی حکومت پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ ایران نے پہلے مرحلے میں امریکی دفاعی نظام کو ناکارہ بنا کر اپنی کارروائیوں کے لیے راہ ہموار کر دی ہے، اور یہ مرحلہ کافی حد تک کامیابی سے طے کر چکا ہے۔ایران کی حکمت عملی درج ذیل نکات پر مبنی ہو سکتی ہے:1. حزب اللہ کے ذریعے لبنان سے اسرائیل کی طرف پیش قدمیارائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ اب دوبارہ گوریلا جنگ کی طرف لوٹ رہی ہے اور اسرائیلی زمینی حملے کی جوابی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ حزب اللہ کی رضوان فورس دوبارہ جنوبی لبنان میں تعینات کی جا چکی ہے، اور کمانڈروں کے نائب (deputies) مقرر کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قیادتی نقصان کے باوجود آپریشن جاری رہ سکے۔ اب اشارے ایسے مل رہے ہیں کہ حزب اللہ صرف دفاعی جنگ نہیں بلکہ پیش قدمی والی جنگ لڑے گا۔2. یمنی گروہ انصار اللہ کی حرکت یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، حوثی فی الحال "انتظار و تدبر" کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف، کچھ اطلاعات کے مطابق حوثی سرخ سمندر (Red Sea) میں بحری جہازوں پر حملے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ یمنی جنگجو اپنی مہارت اور خطرناک نوعیت کیلئے مشہور ہیں، اور ایران کی کوشش ہوگی کہ وہ یمنیوں کی ایک بڑی تعداد کو لبنان کے ذریعے زمینی فورس کے طور پر اسرائیل کے اندر داخل کرے۔3. فلسطینی گروہوں کی زمینی شمولیتغزہ اور فلسطین میں موجود مسلح گروہ، خاص طور پر فلسطینی اسلامی جہاد، ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ اور اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل کے درمیان رابطہ موجود ہے۔ ایران فلسطینیوں کو مختلف سمتوں سے زمینی فورس کے طور پر اسرائیل کے اہم مراکز کی طرف پیش قدمی کراسکتا ہےاگر اس حکمت عملی کو ایک اور زاویے سے دیکھیں تو امریکی صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ وہ ایران میں اپنی فورس اتارنے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ ایران اس کے جواب میں اسرائیل میں زمینی فورسز کی تیاری مکمل کر رہا ہے۔سمال وارز جرنل کے تجزیے کے مطابق، ایران کی اصل طاقت اس کا جوہری پروگرام نہیں بلکہ اس کا وسیع پراکسی نیٹ ورک ہے، جو عراق (کتائب حزب اللہ)، شام، لبنان، مقبوضہ فلسطین اور یمن میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ نیٹ ورک خاص طور پر ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایران براہِ راست زمینی فوج بھیجنے کے بجائے ان پراکسیز کے ذریعے متعدد محاذ کھول سکتا ہے، جس سے اسرائیل پر ہر محاذ پر جواب دینے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔نیوکلئیر ہتھیاروں کے خطرے کی صورت میں زمینی اقداماتامریکہ کا ایک اہم ہدف ایران کے جوہری ایندھن (Highly Enriched Uranium) پر قبضہ کرنا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، اس مقصد کے لیے امریکہ کو بڑی تعداد میں زمینی فوج اتارنی پڑ سکتی ہے۔ایران بھی اسی نقطہ نظر سے صورتحال دیکھ رہا ہے، کیونکہ اسرائیل ایک ایٹمی طاقت ہے اور اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ اسرائیل محدود پیمانے پر ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔ سامسن آپشن (Samson Option) “اگر اسرائیل وجود میں نہیں رہے گا تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا (یعنی پوری دنیا کے لیے خطرہ)”ایران اس بات کو سمجھتا ہے کہ جب تک نتن یاہو کے پاس ایٹمی ہتھیاروں پر مکمل کنٹرول ہے، وہ کسی بھی اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لہٰذا، ایران کی حکمت عملی بھی اسی انداز میں ہے کہ زمینی فورسز کے ذریعے اسرائیل کے ایٹمی پروگرام پر کنٹرول حاصل کیا جائے، تاکہ نتن یاہو اور اس کے ہم خیال افراد حملے کی صلاحیت نہ رکھ سکیں۔اب ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ خود اپنے جال میں پھنس گئے ہیں، یا ایران کے شہید رہبر کی حکمت عملی نے انہیں اپنے جال میں پھنسا لیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملے کر کے اپنے لیے خطرناک حد تک مشکلات پیدا کرچکے ہیں۔ اگر امریکہ اسرائیل ایران جنگ اسی طرح جاری رہی تو دنیا سے امریکی طاقت اور اثر و رسوخ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ بعض مبصرین تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں امریکہ کی سپر طاقت کے تصور کا خاتمہ ہو جائے گا، اور طاقت مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ آنے والے مستقبل میں اسرائیل کا وجود بھی خطرے میں نظر آ رہا ہے، کیونکہ اب اس سرزمین میں یا تو اسرائیل باقی رہے گا یا فلسطین۔ یہ فیصلہ آنے والا وقت کریگا، لیکن لگتا ہے کہ جنگ اب اسی سمت بڑھ رہی ہے۔اس جنگ میں جو ملک جس جانب کھڑا ہوگا، اس کا مستقبل بھی اسی کے ساتھ منسلک اور متاثر ہوگا۔