کراچی (اسٹاف رپورٹر) پرو ہاکی لیگ میں قومی ٹیم کی شرکت اور بدانتطامی کے واقعات نے پی ایچ ایف کے ساتھ پاکستان اسپورٹس بورڈ پر بھی کئی سوالات کھڑے کردیے ۔ وفاقی وزارت بین الصوبائی رابطے کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں پی ایچ ایف نے کہا تھا کہ ہم پرو ہاکی لیگ کا پلان پی ایس بی کے حوالے کریں گے، ہمیں پیسوں سے سروکار نہیں، تمام اخراجات پی ایس بی برداشت کرے گی، مگر اب جہاں ہوٹل کی بکنگ اور بل کی ادائیگی آن لائن ادا کی جارہی ہیں، پاکستان اسپورٹس بورڈ نے پی ایچ ایف کو ان اخراجات کی مد میں چیک کیوں جاری کیا ، پی ایچ ایف کے مستعفی صدر طارق بگٹی نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پی ایس بی کے تاخیری حربے کی وجہ سے ارجنٹائن میں لیگ کے پہلے مرحلے کے لئے ہوٹل بکنگ ایف آئی ایچ سے ادھار لے کر کرائی تھی جس کی ادائیگی ایک رن قبل ایف آئی ایچ کو کی ہے۔ دوسری جانب پی ایس بی کے لاہور سینٹر کے ڈی جی نے کہا ہے کہ آسٹریلیا میں جس ہو ٹل کوبک کیا گیا تھا اسے پی ایچ ایف نے کینسل کرایا، پی ایس بی اس بدانتظامی کا ذمے دار نہیں۔ ادھر قائمہ کمیٹی کے ایک رکن نے جنگ کو بتایا کہ پی ایچ ایف نے تمام انتظامات سوائے ویزے کے پی ایس بی کے حوالے کردیے تھے۔