کراچی (عبدالماجد بھٹی) پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ نمیبیا کے میچ میں جب 47 گیندیں باقی تھیں بابر اعظم پیڈ پہن کر بیٹھے ہوئے تھے ، ایسے میں ان پر ٹیم انتظامیہ کا خواجہ نافع کو ترجیح دینا سینئر بیٹر کی بے عزتی ہے۔ بابر اعظم اگر ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں کھیلتے ہیں تو انہیں صاحبزادہ فرحان کے اننگز اوپن کرائی جائے، چار نمبر پر ان کی جگہ نہیں بنتی۔ مسلسل ناکامیوں کے بعد صائم کو ڈراپ یا نیچے بیٹنگ کرائی جائے ۔ جنگ کی تحقیق کے مطابق بابر اعظم کو ٹیم انتظامیہ نے ٹی ٹوئنٹی میں چوتھے پر کھلانے کا غلط فیصلہ کیا، اب خدشہ ہے کہ انہیں اس فارمیٹ کو خدا حافظ کہنا پڑے گا یا سلیکٹر اور ٹیم انتظامیہ ان کے مستقبل کا فیصلہ کریں گی۔ بابر اعظم نے ورلڈ کپ کی تین اننگز میں66 اور ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف تین میچوں میں76 رنز بنائے۔ انہوں نے آخری سات میچوں کی چھ اننگز میں 142 رنز بنائے ہیں۔ جمعرات کو جنگ کو خصوصی انٹرویو میں راشد لطیف نے کہا کہ بابر پاور پلے میں اچھا کھیل سکتے ہیں۔ کوچنگ اسٹاف نے چوتھے نمبر پر کھلا کر غلطی کی۔ باٹم ہینڈ کے زیادہ استعمال سے ان کا گیم خراب ہوگیا ہے۔ وہ اب جس انداز اور تکنیک سے بیٹنگ کررہے ہیں اس سے اسپنرز پر ایل بی ڈبلیو ہوجاتے ہیں۔ ٹیم انتظامیہ کو چاہیے کہ بابر اعظم کو اوپنر کھلاکر صائم ایوب کی پوزیشن تبدیل کی جائے۔ ورنہ سب سے بہتر آپشن یہ ہے کہ فخر زمان کو چوتھے نمبر پر کھلا کر صائم ایوب کو مسلسل ناکامیوں پر ڈراپ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سپر ایٹ میں فہیم اشرف کی جگہ ابرار احمد کو شامل کیا جائے۔ اپنا چوتھا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کھیلنے والے بابر اعظم کے اعداد و شمار ان کے حق میں نہیں ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کم از کم 500 رنز بنانے والوں میں بابر اعظم کا اسٹرائیک ریٹ 111.81ہے، جو سب سے کم اور سابق کپتان محمد حفیظ کے اسٹرائیک ریٹ کے برابر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کپتان سلمان آغا اور کوچ مائیک ہیسن نے تجربے کی بنیاد پر ان پر اعتماد کیا ہے، انہیں کارکردگی سے جواب دینا ہوگا۔