• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان رہائی فورس، PTI میں اختلاف رائے، سہیل آفریدی کے اعلان کی توثیق کی ضرورت نہیں، شفیع جان

کراچی (ٹی وی رپورٹ) بانی پاکستان تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی فورس کے معاملے میں پی ٹی آئی میں اختلاف رائے، معاون خصوصی اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی فورس کا اعلان کر دیا ہے تو فورس بنائی جائے گی ، اس کیلئے توثیق کی ضرورت نہیں، اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری سہیل آفریدی پرہے وہ سمجھتے ہیں رہائی کیلئے فورس کارآمد ثابت ہوسکتی ہے تو ہم اس طرف جائینگے، سڑکوں پر مزاحمت ہوگی تو مفاہمت کا راستہ کھلے گا، دوسری جانب پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ ’’رہائی فورس‘‘ سہیل آفریدی کی تجویزہے،معاملہ پر غور کیلئے اجلاس طلب کیا گیا ہے، سیکرٹری جنرل آفس اور پولیٹیکل کمیٹی کی منظوری کے بغیر ایسی کسی تجویز پر عملدرآمد ممکن نہیں، جب پارٹی میں آئی ایس ایف، یوتھ ونگ، وومن ونگ اور مدر پارٹی جیسے تنظیمی ڈھانچے پہلے سے موجود ہیں اور اگر انہی ونگز سے افراد لینے کی بات کی جا رہی ہے تو اس کیلئے پارٹی کی باقاعدہ منظوری ناگزیر ہوگی۔ دریں اثناء شیخ وقاص نے ایک ٹی وی انٹرویو میں شفیع جان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نوجوان ہیں اس معاملے پر کلیئریٹی نہیں ہے پولیٹیکل کمیٹی میں کوئی ڈسکشن نہیں ہوا چونکہ وزیراعلیٰ موجود نہیں تھے، آئندہ ہفتے کو اس معاملے پر اجلاس میں غور کیا جائیگا، یہ ٹھیک ہے کہ عمران خان نے سہیل آفریدی کو اسٹریٹ موومنٹ کا انچارج بنایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں جتنی بھی ایکسرسائز ہوئی اس سے ہم نے کئی چیزیں حاصل کی ہیں۔ شہزاد اقبال نے بتایا کہ سلمان اکرم نے کہا کہ عمران خان کی رہائی فورس سے متعلق بیان میں نے اسی وقت سنا جب سہیل آفریدی نے کیا اور اس پر کوئی مشاورت نہیں ہوئی اور یہ تجویز ہے آخری فیصلہ پولیٹیکل کمیٹی کا ہوگا ۔ پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص نے اس رہائی فورس کے اعلان کو سہیل آفریدی کی تجویز قرار دیدیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر سیاسی کمیٹی غور کریگی اور اسکے بعد ہی کوئی فورس بنائی جاسکے گی۔ اس بات کے جواب میں شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی فورس کا اعلان کر دیا ہے تو فورس بنائی جائیگی اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری سہیل آفریدی کو دی گئی ہے اور رہائی فورس کا اعلان بھی اسی تناظر میں ہوا ہے اگر سہیل آفریدی یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹریٹ موومنٹ کیلئے رہائی فورس بنائی جائے تو ہم ا سکو بنائیں گے یہ ذمہ داری عمران خان نے ہی سہیل آفریدی کو دی ہے اور وہی اس کو آگے لے کر جارہے ہیں۔ کل پولیٹیکل میٹنگ ہوئی تھی آج کوئی میٹنگ نہیں تھی اور اس پر کل بات ہوئی ہے میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پارٹی کو اس پر آن بورڈ نہیں لینگے۔ تاہم میں شیخ وقاص کے بیان پر کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ اس فورس کا صرف ایک کام ہوگا وہ عمران خان کی رہائی ہے اس کا سیاست سے لینا دینا نہیں ہوگا جس دن وہ آزاد ہونگے یہ فورس تحلیل ہوجائے گی ہم باقاعدہ اس میں لوگوں کو ممبر بنائیں گے اور حلف لیا جائیگا اور اس کو سہیل آفریدی لیڈ کرینگے۔ محمود اچکزئی نے بھی کہا تھا کہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں انہیں غلط خبر دی گئی۔ سلمان اکرام راجا کو بھی انفارمیشن دی گئی ہوگی وہ خود تو نہیں ملے ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ملنے دیں انکے خاندان اور لیڈرشپ کو ملنے دیا جائے جب تک ہم ان کے معالج یا ہم مل نہیں لیتے ہمارے خدشات دور نہیں ہوں گے۔ علی امین کے انٹرویو پر میری ذاتی رائے ہے کہ انہیں اس وقت انٹرویوز نہیں دینے چاہیے تھے اور اگر دیں بھی تو عمران خان کی رہائی کی بات کریں ہمیں ابھی عمران خان کی صحت اور انکی رہائی پر فوکس کرنا چاہیے اور جو اندرونی مسائل ہیں اس پر بات ہوتی رہے گی وہ ڈیڑھ سال تک وزیراعلیٰ رہے ان کی پرفارمنس سب کے سامنے ہے وہ اسلام آباد بھی آئے اور کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔ فواد چوہدری کے پاس تحریک انصاف کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے اور عمران خان ان سے ملنا بھی نہیں چاہتے۔

اہم خبریں سے مزید