اسلام آباد(مہتاب حیدر/تنویر ہاشمی) بے مثال مہنگائی، کمزور معاشی نمو، آئی ایم ایف کے زیرِ اہتمام تین بیل آؤٹ پیکیجز، کووڈ-19 کی وبا، زرِ مبادلہ کی قدر میں شدید کمی اور دو سیلابوں کے پس منظر میں پاکستان میں غربت اور عدم مساوات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 2024-25 میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9فیصد تک پہنچ گئی۔پاورٹی ایسٹی میشن کمیٹی کے مطابق ملک کی 24 کروڑ آبادی میں سے 28.9 فیصد کے تازہ تخمینے کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 94 لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔غربت میں اضافے کے لحاظ سے سندھ سب سے اوپر ہے کیونکہ پی پی پی (PPP) کی زیرِ قیادت اس صوبے میں چھ سالوں کے دوران غربت کی سطح میں 8.1فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2019 میں یہ شرح 24.5 فیصد تھی، جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 32.6 فیصد ہوگئی ہے جو کہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ،دیہات میں غربت کی شرح28.2فیصد سے بڑھ کر 36.2فیصد ہوگئی ہے جبکہ شہری علاقوں میں غربت کی شرح11فیصد سےبڑھ کر 17.4فیصد ہو گئی ہے ، ملک میں سب سے زیادہ غربت کا شکار صوبہ بلوچستان ہے جہاں غربت کی شرح47فیصد ہے ، اس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں غربت کی شرح35.3فیصد ، سندھ میں 32.3فیصد اورپنجاب میں غربت کے شکار افراد کی شرح23.3فیصد ہے، سال 2018-19میں صوبوں میں غربت کی شرح کے اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں 41.8فیصد ، خیبر پخونخوا28.7فیصد ، سندھ24.5فیصد اور پنجاب میں غربت کی شرح16.5فیصد تھی ، وزارت منصوبہ بندی نے ملک میں آمدن اور غربت کے اعداد وشمار جار ی کردیئے ہیں یہ اعداد وشمار 2024-25کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ، ماہانہ رئیل اور اصل گھر یلو آمدن اور اخراجات میں بھی کمی آئی ، مہنگائی ، معاشی دبائواور خریداری میں کمی کے باعث رئیل ماہانہ آمدن 35454روپے سے کم ہو کر 31127روپے پر آگئی ہجبکہ گھریلو اخراجات بھی31711روپے سے کم ہو کر 29929روپے پر آگئے ہیں اگرچہ اصل میں آمدن 41545روپے سے بڑھ کر 82179روپے اور اخراجات 37159روپے سےبڑھ کر 79150روپے پر ہیں، رپورٹ کے مطا بق گزشتہ 8برسوں میں بیرونی اور اندرونی معاشی صورتحال کے باعث گھریلواخراجات پر شدید دبائو آیااور غربت میں اضافہ ہوا،2024-25کے غربت سروے میں غربت کی لائن 8483روپے ماہانہ رکھی گئی جوکہ 2018-19میں 3757روپے تھی۔ جینی کوایفیشنٹ کے مطابق یہ شرح مالی سال 2019 کے 28.4 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 32.7 فیصد ہو گئی۔ صوبوں میں سندھ سرفہرست ۔6 برس میں غربت میں 8.1 فیصد اضافے کے ساتھ 2025 میں 32.6 فیصد ہو گئی۔پاوورٹی ایسٹی میشن کمیٹی کے جاری کردہ انداز وں میں ملکی و بین الاقوامی ڈونرز کے ماہرین شامل ہیں۔ یہ تخمینے ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے 2024-25 میں کیے گئے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) کی بنیاد پر مرتب کیے گئے۔غربت کی شرح 2019 میں 21.9 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 28.9 فیصد ہو گئی، یعنی 7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔