• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران پر محدود حملہ کرسکتے ہیں، ٹرمپ، فوجی دباؤ بڑھانا سود مند نہیں، تہران

کراچی (نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ امریکا ایران میں شخصیات کو نشانہ بناسکتا ہے جبکہ رجیم چینج بھی کروایا جاسکتا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطےمیں امریکی افواج کی موجودگی میں اضافے پر کہا ہے کہ فوجی دبائو بڑھانا سود مند ثابت نہیں ہوگا، انہوں نے امریکی دھمکیوں کے باوجود کہا کہ وہ ایران امن اور امریکا کیساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے اور دونوں ممالک میں جوہری معاہدہ اب بھی ہوسکتا ہے، انہوں نے کہاکہ امریکا نے مذاکرات کے دوران ایران سے یورینیم افزودگی  معطل کرنے کی درخواست نہیں کی   ہے  ۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایران پرمحدود پیمانے پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں جس پر ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ ’میرے خیال میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میں اس بارے میں غور کررہا ہوں‘۔اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق محدود حملے پر غور کامقصد ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے، ایران معاہدے کو قبول نہ کرے تو حملے کو وسیع جنگ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا کوئی عسکری حل موجود نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ کا سفارتی حل ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہم اسے آسانی سے کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر اس سے قبل بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو فوجی طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب نے یو این کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک جنگ کی شروعات نہیں کرے گا تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔گزشتہ روز غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب میں بھی امریکی صدر نے دھمکی دی تھی اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
اہم خبریں سے مزید