• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گیس سیکٹر کا قرضہ 3.28 ٹریلین روپے؛ قانون سازوں کا سسٹم بریک ڈاؤن کا خدشہ

اسلام آباد (اسرار خان) گیس سیکٹر کا قرضہ 3.28 ٹریلین روپے؛ قانون سازوں کا سسٹم بریک ڈاؤن کا خدشہ، سوئی کمپنیوں کو 60ارب روپے کا سالانہ خسارہ، نجکاری کا مطالبہ ؛ گلگت اور کوٹلی میں لیتھیم کے وسیع ذخائر دریافت۔ تفصیلات کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کو بتایا گیا ہےکہ پاکستان کا گیس سیکٹر 3.283 ٹریلین روپے کے بھاری بھرکم گردشی قرضوں تلے دبا ہوا ہے۔ اس موقع پر قانون سازوں نے خبردار کیا کہ سرکاری یوٹیلیٹی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے نقصانات بالآخر پورے نظام کو مفلوج کر سکتے ہیں اور صارفین پر بوجھ میں مزید اضافے کا سبب بنیں گے۔ قومی اسمبلی کی پیٹرولیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کے سامنے ہونے والے اس انکشاف نے شدید تنقید کو جنم دیا، جس کے بعد ملک کی دو گیس تقسیم کار کمپنیوں (سوئی ناردرن اور سوئی سدرن) میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات بشمول ان کی نجکاری کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل گیس عبدالرشید جوکھیو نے کمیٹی (پینل) کو بتایا کہ گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ بڑھ کر 3.283 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے، جو پوری سپلائی چین میں موجود گہری مالی مشکلات کی نشاندہی کرتا ہے۔ قانون سازوں نے خبردار کیا کہ فوری مداخلت کے بغیر، بڑھتا ہوا قرضہ اور بدانتظامی اس صنعت کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہے۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے بتایا کہ کمپنی نے گیس چوری اور لیکیج کے نقصانات کو کم کرکے 5.27 فیصد تک کر دیا ہے، جو کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مقرر کردہ اہداف سے بھی کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوئی ناردرن کے سالانہ مالیاتی نقصانات تقریباً 30 ارب روپے ہیں، جبکہ ’غیر حساب شدہ گیس‘ یعنی چوری اور لیکیج کی مد میں ضائع ہونے والی گیس کی مقدار تقریباً 30 ارب کیوبک فٹ سالانہ ہے۔ عامر طفیل نے مزید بتایا کہ سخت نگرانی اور نفاذ قانون کے اقدامات کے ذریعے حالیہ برسوں میں سوئی ناردرن کے نقصانات کو 17 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد تک لایا گیا ہے۔ بہتری کے باوجود، قانون سازوں کا کہنا تھا کہ سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے مجموعی سالانہ نقصانات، جن کا تخمینہ تقریباً 60 ارب روپے لگایا گیا ہے، انتہائی تشویشناک ہیں اور ان کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔
اہم خبریں سے مزید