• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر…مولانا سید حسن ظفر نقوی
اور ہر ایک کی ایک سمت ہے جدھر وہ رخ کرتا ہے۔لہٰذا بڑھ چڑھ کر نیکیاںحاصل کرو جہاںبھی ہو گے تم سب کو اللہ لے آئے گا، اللہ ہر بات پر قادر ہے۔(سورئہ بقرہ،آیت ۱۴۸)
ماہ مبارک کے آتے ہی طبع سلیم خودبخود عبادت اور نیکی کے کاموں کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ہر مسلمان اپنے امکانات اور وسائل کی حد تک کار خیر میں حصہ لینا چاہتا ہے، اور مسلمان تو کیا غیر مسلم بھی بڑھ چڑھ کر ماہ مبارک رمضان میں روزے داروں کو سہولتیں فراہم کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں بلکہ گستاخی معاف مسلمان بازاروں میں جہاں رمضان آتے ہی مہنگائی کا سونامی آجاتا ہے ، وہیں غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کے لئے رعایتی بازار یعنی Sale Bazar لگا دئے جاتے ہیں۔
معلوم نہیں کب ہمارے تجار جو نمازیں پابندی سے پڑھتے ہیں، حج عمرے ہر سال بجا لاتے ہیں۔ تراویح پڑھنے کے لئے دکانیں بند کر کے دوڑتے ہیں، لیکن ان سب عبادتوں کے بعد حقوق العباد پر خنجر چلاتے نظر آتے ہیںاور اگر ہم جیسا کوئی سمجھانے کی کوشش کرے تو فورا ایک جملہ ادا کرتے ہیں کہ عبادت الگ ہے اور تجارت الگ ہے۔ ان دنیا کے ماروں کو کوئی اتنا سا مسئلہ بھی نہیں سمجھا سکا کہ حقوق العباد ادا کیے بغیر اللہ کی بارگاہ میں کوئی عمل قابل قبول نہیں۔
دوسری طرف رمضان شروع ہوتے ہی سیکڑوں تنظیمیں اور ادارے مستحقین کی امداد کے لئے میدان میں اتر آتے ہیں۔ یقیناً ان کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کا بھلا ہو جاتا ہے، لیکن یہاں بعض احباب کی امداد جمع کرنے کے بہانے چاندی ہو جاتی ہے، ذیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ڈر ہے کہ آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے۔ایک طبقہ غریبوں کو امداد دیتے وقت تصویریں اور وڈیوز بنا کر شائع کر کے ایک طرف ان کی غربت کا مذاق اڑاتے ہیں تو دوسری طرف اپنے لئے فنڈنگ کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
اور ایک سمت دیکھیں تو چوراہوں، بازاروں اور گلیوں میں فقیروں کا ہجوم، یقینا ًان میں مستحق بھی ہوتے ہوںگے۔ لیکن آپ سب نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ خاص طور پر رمضان میں جیسے بڑے شہروں پر یلغار ہو جاتی ہے ، جنھیں باقاعدہ منظم طریقے سے آپریٹ کرنے والے آپریٹ کر رہے ہوتے ہیں اور یہ لوگ مستحقین کا حق اڑا لے جاتے ہیں، اس کے ثبوت کے لئے ان ہزاروں فقیروں کا حوالہ دینا کافی ہے جنھیں گزشتہ چند ماہ میں عرب ممالک سمیت دیگر ممالک سے بیدخل کرکے واپس پاکستان بھیجا گیا ہے۔
اب ایسے حالات میں اکثر لوگ رونا روتے نظر آتے ہیں کہ مستحقین کو کیسے اور کہاں تلاش کریں؟یہ بات درست نہیں ہے اور نہ ہی عقل سلیم اسے تسلیم کرتی ہے۔ ہم آپ کو قرآن اور حدیث کے دئے ہوئے قاعدے کے مطابق مستحقین کو تلاش کرنے کا طریقہ اور مستحقین کے حق کی ترتیب بتانے کی کوشش کریں گے تاکہ اطمینان قلب اور یقین کی حالت میں مستحقین کی مدد کر سکیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ (ترجمہ)اور اپنا پسندیدہ مال قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے(سورئہ بقرہ،آیت۱۷۷)
قرآن مجید میں جہاں بھی حق داروں کو ان کا حق پہنچانے کی تنبیہ کی گئی ہے وہاں سب سے پہلے اقرباء یعنی رشتہ داروں کا ذکر کیا گیا ہے ،یعنی ہمیں سب سے پہلے اپنے خاندان میں نظر دوڑانی چاہیے کہ کہیں ہمارے نزدیک یا دور کے رشتہ داروں میں کوئی ایسا خاندان تو نہیں جو معاشی بدحالی یا پریشانی کا شکار ہے،ظاہر ہے کہ عزت نفس اور غیرت کی وجہ سے وہ تقاضا نہیں کرسکتے لیکن یہ ہمارا فرض ہوتا ہے کہ ہم ان کی عزتِ نفس اور انا کو ٹھیس پہنچائے بغیر عزت واحترام سے ان کی مدد کریں ۔ ان کے بچوں کے ہاتھ میں تحفے کی صورت میں مدد کی جائے تاکہ وہ احساس کمتری کا شکار نہ ہوں  اور دوسرےباعزت راستے ہوسکتے ہیں جن کے ذریعے اعزاء اوراقرباء کی مدد کی جاسکتی ہے۔ان میں  کچھ خاندان ایسے ہوتے ہیں جو بیروزگار تو نہیں ہوتے لیکن آمدنی کم اوراخراجات زیادہ ہوتے ہیں پھر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی گردنیں قرض کے پھندوں میں جکڑی ہوتی ہیں ،ان کے قرض  اتارناعظیم عبادت ہے پھر ایسے یتیم بچے ہیں جو یا تو مزدوری کررہے ہوتے ہیں یا ان کو پالنے والی ماں محنت مزدوری کررہی ہوتی ہے۔
ایسے مجبور اوربےکس خاندانوں کی مدد اپنے گھر کی خواتین کے ذریعے کریں تاکہ وہ خدشات کاشکار نہ ہوں ،پھر خود آپ کے گھر کے ملازمین ،ان کا حق ہے کہ تہواروں کے موقع پر ان کی مددکی جائے اورانہیں خوشیوں میں شریک کیاجائےپھر گھروں ،سوسائٹیز ، بازاروں اور دیگر جگہوں پر چوکیداری کے فرائض انجام دینے والے لوگ،مزدورطبقہ جس بےچارے کا چولہا دہاڑی لگنے پرچلتا ہے اور جوں جوںعید قریب آتی ہے اس کا چہرہ معاشرے کے سامنے سوالیہ نشان بن جاتا ہے کہ کیا میرے بچوں کو عید پر نئے کپڑے پہننے کا حق نہیں؟اخبار آپ کے گھر تک پہنچانے والا،گلیوں میں جھاڑو لگانے والے،چھوٹے چھوٹے خوانچے لگانے والےاور پھر ہمارے گلی محلوں ، ایسے گھرانے جنھیں سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کے چہرے ہی سوال ہوتے ہیں ۔
بتائیےکیا ایسے لوگوں کو تلاش کرنا اتنا مشکل ہے کہ آپ یہ کہیں کہ مستحقین کو کیسے اور کہاں تلاش کریں؟اوراپنے ہاتھ سے کسی مستحق کی مدد کرنے میں جو لذت ہے ،جو کیف ہے ، جواطمینان ہے اس کا بدل قارون کا خزانہ بھی نہیں ہے۔اور یاد رکھیں کہ صرف زکوٰۃ یا خمس ادا کرنے سے حق ادا نہیں ہوتا ،زکوٰۃ اور خمس ادا کرنا واجبات میں ہےیہ ادا کرنے سے آپ اپنے آپ کو اللہ کی معصیت سے بچاتے ہیں۔
خیر اور نیکی کے اعلیٰ مرتبے پر انسان اس وقت پہنچ سکتا ہے جب اپنے واجبات ادا کرنے کے بعد جس مال سے وہ محبت کرتا ہے اس مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے (ترجمہ)ارے ملک کے پیارے لوگ دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہیں جہاں کے لوگ اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کرتے ہیں ۔ان شاءاللہ امید کرتے ہیں کہ اس سال ماہ مبارک اور پھر عید کے موقع پر اس طرح مستحقین کی مدد کی جائے کہ سارے ملک کے عوام مل کر عید کی خوشیاں آپس میں بانٹیں۔
ملک بھر سے سے مزید