• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہری کے اکاؤنٹ سے ڈپلیکیٹ سم نکلوا کر 85 لاکھ کا فراڈ، مقدمہ درج

کراچی( ثاقب صغیر )این سی سی آئی اے نے شہری کے بینک اکائونٹ سے بغیر بائیو میٹرک تصدیق کے ڈپلیکیٹ سم نکلوا کر 85 لاکھ روپے کی رقم نکلوانے پر مقدمہ درج کر لیا ۔مقدمہ کے مطابق ٹیلی کام کمپنی اور نجی بینک کی مجرمانہ غفلت اور نظامی ناکامیوں کے باعث فراڈیوں نے سم پر غیر قانونی طور پر قبضہ حاصل کیا۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق انکوائری نمبر 2098/2025 سنی کمار ولد کیلاش نامی شہری کی تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی جس میں انہوں نے بغیر بائیومیٹرک تصدیق کے غیر قانونی طور پر انکی سم کی ڈپلیکیٹ جاری کرنے کیخلاف شکایت کی جسکے نتیجے میں تقریباً 85 لاکھ روپے کا مالیاتی فراڈ ہوا۔ شکایت کنندہ کے بینک اکاؤنٹ سے غیر قانونی طریقے سے رقوم منتقل کی گئیں۔این سی سی آئی اے کے مطابق موبائل فون کمپنی کے حکام کو سم دوبارہ جاری کرنے، سیکورٹی پروٹوکول، بائیومیٹرک ویریفکیشن (BVS)، GPS ٹیگنگ اور ریٹیلر کی ذمہ داری کے حوالے سے متعدد نوٹسز اور سوالنامے بھیجے گئے مگر کمپنی کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ ملا۔کوآرڈینیٹس اور سم ری ایشو لاگز کے تجزیے سے یہ ثابت ہوا کہ شکایت کنندہ شام 7:43 بجے ڈولمن مال کلفٹن میں موجود تھا جبکہ ڈپلیکیٹ سم 7:50 بجے دھابیجی ضلع ٹھٹھہ میں جاری کی گئی۔یعنی صرف 7 منٹ کے فرق سے، حالانکہ دونوں مقامات کے درمیان 62 کلومیٹر کا فاصلہ ہے جو جسمانی طور پر ناممکن ہے۔این سی سی آئی اے کے مطابق یہ امر واضح کرتا ہے کہ یوفون کی مجرمانہ غفلت، نظام میں ہیرا پھیری یا اندرونی ملی بھگت کے ذریعے یہ فراڈ ممکن ہوا۔یہ سم ڈیوائس ID: UPOHYD0039، IMEI 356624090926053 کے ذریعے ریٹیلر ذاکر احمد خان (شناختی کارڈ نمبر 41406-4197329-9) نے دوبارہ جاری کی۔ حکام کے مطابق ایک نجی بینک کو تقریباً 70 سوالنامے بھیجے گئے جن میں غیر مجاز ڈیجیٹل بینکنگ ایکسس، بائیومیٹرک سیکورٹی، او ٹی پی ، فراڈ مانیٹرنگ، ڈیوائس بائنڈنگ اور ٹرانزیکشن ویریفکیشن سے متعلق وضاحت طلب کی گئی۔بینک نے ناکافی جواب دیا اور اپنے ایک ملازم (ملازم نمبر 91437، مردان برانچ) کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا جس نے شہاب سلیم (شناختی کارڈ نمبر 54401-8977381-1) کی مدد سے شکایت کنندہ اور 28 دیگر اکاؤنٹس کو غیر قانونی طور پر ایکسس کیا۔حکام کے مطابق 104 ٹرانزیکشنز صرف 137 منٹ میں مکمل کی گئیں یعنی ہر 1.3 منٹ میں ایک ٹرانزیکشن کی گئی۔یہ تمام ٹرانزیکشنز نئے بینیفشریز اور نئے ڈیوائس کے ذریعے رات کے غیر معمولی اوقات میں ہوئیں لیکن بینک کا فراڈ مانیٹرنگ سسٹم کوئی الرٹ جاری نہ کر سکا۔حکام کے مطابق بینک نے تسلیم کیا کہ ممکنہ طور پر سسٹم گلچ اور الارم فیلئر پیش آیا۔نادرا بائیو ویری سِس (BioVeriSys) کے مطابق 154 ناکام بائیومیٹرک کوششیں ،110 سے زائد غلط انگلیوں کے نشانات، اور"ایگزاسٹڈ سیشنز" کے پیغامات ریکارڈ ہوئے جبکہ نادرا پالیسی کے مطابق فی سیشن 8 کوششیں اور فی دن 15 سیشنز کی اجازت ہے۔حکام کے مطابق وہی ڈیوائس 2 ستمبر 2025 کو بھی ایک فراڈ میں استعمال ہوئی تھی لیکن بلیک لسٹ نہیں کی گئی۔حکام کے مطابق یہ بینک کی مجرمانہ غفلت، سیکیورٹی ناکامی اور اندرونی خلاف ورزی کو ظاہر کرتا ہے۔حکام نے بتایا کہ تین ڈیوائسز نے لاگ ان کی کوشش کی، تاہم IMEI 351280490442509 (Infinix Note-30)، جو شیراز علی (شناختی کارڈ نمبر 42501-8091530-9) کے زیر استعمال تھی نے کامیابی سے اکاؤنٹ ہیک کیا۔اکاؤنٹ ہیک ہونے کے بعد رقم ارسلان میڈیکل اسٹور (عروج اسلم)، خان کنفیکشنری (حمیرہ ناز)، 21 HBL Konnect اکاؤنٹس (ان پڑھ خواتین کے ناموں پر) فرینڈز موبائل (سیف اللہ سجاد) اور اکاؤنٹ (ناصر احمد - A/C 333428971) میں منتقل کی گئی۔بیانات سے معلوم ہوا کہ ان پڑھ خواتین کو بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے افسران بنکر دھوکہ دیا گیا۔ انکے انگوٹھوں کے نشانات لے کر اکاؤنٹس کھلوائے گئے۔ ریٹیلرز عبد الکریم (افان موبائل شاپ)، محمد رمضان (رحمان موبائل شاپ) اور شیخ جبران نے ان اکاؤنٹس کے قیام میں سہولت فراہم کی۔حکام کے مطابق یہ بات ثابت ہوئی کہ موبائل فون کمپنی اور نجی بینک کی مجرمانہ غفلت اور نظامی ناکامی کے باعث ملزمان نے غیر قانونی طور پر سم نمبر 0332-7444204 اور اکاؤنٹ نمبر PK30UNILO109000316167578 پر قابو پا کر بڑے پیمانے پر سائبر مالیاتی فراڈ کیا گیا۔مقدمہ میں بینک کے دو اور موبائل فون کمپنی کے ایک ملازم سمیت 11 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام ملزمان نے بدنیتی پر مبنی جرم کیا جو کہ قانون انسداد الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی دفعات 3، 4، 13، 14، 16 اور تعزیرات پاکستان (PPC) کی دفعات 409، 109 اور 34 کے تحت آتا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فون کمپنی اور نجی بینک کے ملازمین کے کردار کی مزید چھان بین تفتیش کے دوران کی جائے گی۔ملزمان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
اہم خبریں سے مزید