• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی سندھ کا اٹوٹ  حصہ ہے، سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور، شہر قائد کو صوبہ بنانے کی سازش کی مذمت

کراچی( سہیل افضل ) کراچی سندھ کا اٹوٹ حصہ ہے، صوبائی اسمبلی میں قرار داد منظور ، شہر قائد کو صوبہ  بنانے کی سازش کی مذمت، جنرل مشرف کے دور میں کراچی عملی طور پر وفاق کے حوالے تھا ، شرجیل میمن،وزیر اعلی کی قرارداد کی حمایت، قرارداد آئین کے خلاف ہے،نوکریوں کے اشتہارات پر شہری اور دیہی سندھ کی تفریق ختم کردیں،اپوزیشن ۔پیپلز پارٹی کی  قراداد نفرتیں بڑھائے گی،آئین صوبوں کی اجازت دیتا ہے تو ہم صوبوں کی بات کیسے نہیں کر سکتے ،ایم کیو ایم، جو  قرارداد کی مخالفت کرے گا اسے سندھ کا مخالف سمجھا جائے گا،تقسیم کی کوشش قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کیلئے خطرہ ،مراد علی شاہ۔  تفصیلات کے مطابق ایوان نےسندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی دوٹوک مذمت کرتے ہوئے کراچی سندھ کا اٹوٹ حصہ ہے کی قرار داد منظور کر لی، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے قرارداد کے مخالف کو سندھ کا مخالف قرار دے دیا ، سندھ محض انتظامی اکائی نہیں بلکہ دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے، سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ کہتے ہیں کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے جنرل مشرف کے دور میں عملی طور کراچی وفاق کے حوالے تھا ۔پی ٹی آئی کے شبیر قریشی نے کہا کہ کراچی کے لوگ رو رہے ہوتے ہیں۔ نوکریوں کے اشتہارات پر شہری اور دیہی سندھ لکھا ہوا ہوتا ہے۔ یہ تفریق ختم کردیں آپ کو قرارداد لانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔ ایم کیو ایم کے عامر صدیقی نے کہا کہ گورنر ہائوس میں ایسی کونسی غلط بات کردی گئی کہ یہ قرارداد لانے کی نوبت آگئی ، ایم کیو ایم کے معاذ محبوب نے سوال کیا کہ دیہی اور شہری کا کوٹا کیوں مقرر ہے؟ سندھ میں صوبے کیوں نہیں بن سکتے؟ ایم کیو ایم کے رکن طحہ احمد ایم کیو ایم نے کہا کہ یہ قرارداد آئین کے خلاف ہے ۔آئین صوبوں کی اجازت دیتا ہے تو ہم صوبوں کی بات کیسے نہیں کر سکتے ، ایم کیو ایم صوبے بنانے کی قراداد نہیں لائی ہے پیپلز پارٹی کی یہ قراداد نفرتیں بڑھائے گی،تفصیلات کے مطابق ہفتہ کوسندھ اسمبلی نے ہفتہ کو اپنے اجلاس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد منظور کرلی جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا۔سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئین اور جمہوری اقدار کے منافی سمجھی جائے گی ۔ایسی کوئی بھی کوشش قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کیلئے خطرہ ہے، قرارداد میںایوان کی جانب سے سندھ کی تقسیم یا کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی دوٹوک مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا۔قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کہا کہ جو اس قرارداد کی مخالفت کرے گا اسے سندھ کا مخالف سمجھا جائے گا۔سندھ اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ایوان کی کاروائی کے دوران وزیر اعلی سندھ نے اپنی قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی ۔انہوں نے قرارداد پیش کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ کچھ جگہوں پرایسے اجلاس ہوئے جہاں بات ہوئی کہ سندھ کو توڑ دیا جائے اور کراچی کو الگ کردیا جائے۔ میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صوبہ سندھ نے بنایا تھا۔ پاکستان سے محبت کرنے والا ہر شخص اس قرارداد کی تائید کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کی جو بھی مخالفت کرے گا ایسا سمجھا جائے گا کہ وہ سندھ کو توڑنے کی بات کر رہاہے ۔انہوں نے کہا کہ میری قرارداد میں کسی شخص یا پارٹی کا نام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قرارداد اسی سندھ اسمبلی نے پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں پاس کی تھی۔ محترمہ کو جب شہید کردیا گیا تھا تو اس وقت بھی صدر زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس قرارداد کی حمایت دونوں طرف بیٹھے لوگ کریں گے۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے سندھ اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سندھ محض انتظامی اکائی نہیں بلکہ دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے،موئن جو دڑو کی سرزمین، وادی سندھ تہذیب کا گہوارہ ہے، قراردادکے متن میں کہا گیا ہے کہ تاریخ میں کئی حملہ آور آئے اور چلے گئے مگر سندھ متحد اور ناقابل تقسیم رہا،کراچی تاریخی طور پر کولاچی کے نام سے معروف تھا، یہ سندھ کی سرزمین سے ابھرنے والا شہر ہے، کراچی سندھ کی بندرگاہ، تجارتی مرکز اور دنیا سے رابطے کا دروازہ ہے، قیام پاکستان کے بعد 1947 میں پہلا دارالحکومت بننے کے باوجود کراچی جغرافیائی، تاریخی اور جذباتی طور پر سندھ سے جدا نہیں ہوا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 1936 میں طویل آئینی و جمہوری جدوجہد کے بعد سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی تاریخی سنگ میل ہے۔ قرارداد کے مطابق سندھ کی سیاسی شناخت کی بحالی عوام کی قربانیوں اور شعور کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعلی کی قرارداد میں 3 مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد پاکستان کا تاریخی حوالہ بھی دیا گیا اس میں یاد دلایا گیا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کے مطالبے کی توثیق میں سندھ کا کلیدی کردار تھا اورسندھ اسمبلی پاکستان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرنے والی اولین صوبائی اسمبلی تھی۔جس اسمبلی نے پاکستان کے قیام کی حمایت کی وہ اپنی تاریخی سرزمین کی تقسیم کی اجازت نہیں دے سکتی۔
اہم خبریں سے مزید