تحریر…نور محمد بلوچ پاکستان میں جب جب انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے پاکستان پیپلزپارٹی ملکی اتحاد اور یگانگت کو برقرار رکھنے کےلیے اس کی راہ میں دیوار بن گئی ہے۔ چاہے کالاباغ ڈیم کا ایشو ہو، این ایف سی ایوارڈ یا نہروں کا مسئلہ، پیپلزپارٹی نے ہر اس خیال کی مخالفت کی ہے جو ملکی اتحاد کو پارہ پارہ کرسکتا تھا۔ یہی صورتحال کچھ ماہ سے ایک بار پھر درپیش تھی، سوشل میڈیا مہم کے ساتھ ساتھ وفاق کے نمائندہ ہاؤس میں ایک ایسی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں سندھ کی وحدت پر سوالات اٹھائے گئے جس پر پیپلزپارٹی کا ردعمل فطری تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پارٹی قیادت کی ہدایت پر ایوان میں ایک جامع قرارداد پیش کی جس میں سندھ کی تاریخ، آئینی حیثیت اور سیاسی وحدت کا تفصیلی احاطہ کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ محض ایک انتظامی اور وفاقی اکائی نہیں بلکہ دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے، سندھ موئن جو دڑو کی سرزمین، وادی سندھ کی تہذیب کا گہوارہ، شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، عبداللہ شاہ غازی اور لال شہباز قلندر کی دھرتی، ایک ایسا صوبہ جس کی شناخت، زبان اور ثقافتی تسلسل جدید سیاسی سرحدوں سے قبل کا ہے اور جس نے یلغاروں، سلطنتوں اور نوآبادیاتی حکمرانی کے ادوار کا سامنا کرتے ہوئے اپنی بقا برقرار رکھی۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں سندھ نے فتوحات کا جبر جھیلا ہے تاہم اس کی جغرافیائی، ثقافتی اور تہذیبی وحدت برقرار رہی، حملہ آور آتے اور جاتے رہے مگر سندھ مکمل اور غیر منقسم رہا۔قرارارداد میں کراچی کی تاریخی حیثیت پر بھی بات کی گئی اور واضح کیا گیا کہ کولاچی کے نام سے جانا جانے والا کراچی سندھ کی سرزمین سے ابھرا اور اس کے مرکزی بندرگاہی شہر، تجارتی مرکز اور دنیا سے رابطے کے دروازے کے طور پر ترقی حاصل کی، جو سندھ کے عوام کی زمین، محنت اور اجتماعی جذبے سے پروان چڑھا۔ اگرچہ 1947میں آزادی کے بعد پاکستان کا پہلا دارالحکومت بنا تاہم جغرافیائی، تاریخی اور جذباتی طورپر سندھ سے ناقابلِ تنسیخ رہا۔قرارداد میں ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک طویل آئینی اور جمہوری جدوجہد کے بعد 1936میں سندھ کو بمبئی پریذیڈنسی سے الگ کیا گیا، جس سے اس کی منفرد سیاسی شناخت بحال ہوئی، یہ سنگ میل عوام کی قربانیوں اور سیاسی بیداری کے نتیجے میں حاصل ہوا۔قیام پاکستان میں سندھ کے کردار پر بات کرتے ہوئے قرارداد کہتی ہے کہ سندھ قانون سازاسمبلی کو یہ منفرد اور تاریخی اعزاز حاصل ہے کہ اس نے سندھ کے منتخب نمائندوں کی قیادت میں3مارچ 1943 کو پاکستان قرارداد منظور کی جس میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کے مطالبے کی توثیق کی گئی۔ یوں سندھ تحریکِ پاکستان کے صفِ اول میں رہا۔ یہ تاریخی اقدام پاکستان کے قیام میں سندھ کے بنیادی کردار کی عکاسی کرتا ہے لہٰذا یہ ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ وہی اسمبلی جس نے پاکستان کے تصور کی توثیق کی، اپنے تاریخی وطن کی تقسیم کی اجازت نہیں دے سکتی۔قرارداد میں آمریتوں کے جبر پر بھی بات کی گئی اور بتایا گیا کہ1955میں ون یونٹ اسکیم کے نفاذ کے خلاف سندھ کے عوام نے مزاحمت کی، جس کے تحت تاریخی صوبوں کو ایک مصنوعی انتظامی ڈھانچے میں ضم کیا گیا تھا۔1970میں سندھ کی بحالی اس امر کی دائمی شہادت ہے کہ اس کے عوام اپنے صوبے کے تحفظ کیلئے پرعزم رہے۔سندھ کی وحدت کو آئینی تحفظ کی نشاندہی کرتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے1973کے آئین کے معماروں نے ملک کے وفاقی ڈھانچے کی توثیق کی اور آرٹیکل239کے تحت واضح طور پر یہ فراہم کیا کہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کے دو تہائی سے زائد ارکان کی منظوری کے بغیر صوبائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔سندھ تاریخی اور منفرد اکائی کی حیثیت سے وفاق پاکستان میں شامل ہوا اور پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کرنے والا پہلا صوبہ تھا، جو وفاقیت، جمہوریت اور قومی وحدت سے اس کے دیرینہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ کراچی سے کیٹی بندر اور کشمور سے کارونجھر تک سندھ کے بیٹوں اور بیٹیوں نے مل کر کراچی کو پاکستان کی معاشی شہ رگ میں تبدیل کیا جو تقسیم کے بجائے تنوع میں وحدت کی علامت ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے، اس کے علاقے کو ٹکڑوں میں بانٹنے یا کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئینی روح، جمہوری اقدار اور سندھ کے عوام کے گہرے جذبات کے منافی ہے اور قومی ہم آہنگی اور وفاقی معاہدے کو نقصان پہنچائے گی۔قراراداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان سندھ کی تقسیم یا کراچی پر مشتمل علیحدہ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کی غیر مبہم طور پر مذمت اور اسے مسترد کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ایوان امر کی توثیق کرتا ہے کہ سندھ کی وحدت، علاقائی سالمیت اور تاریخی شناخت ہمارے اسلاف کی امانت ہیں اور ان کا دفاع آئینی، جمہوری اور سیاسی ذرائع سے کیا جائے گا۔قرارداد میں تمام سیاسی فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کریں جو صوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کیلئے خطرہ ہوں۔ ایوان نے قرار دیا کہ اسمبلی جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سندھ کی سالمیت، وقار اور مسلسل تاریخی ورثے کے دفاع میں متحد ہے۔قرارداد میں حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے اور اس قرارداد کی نقل صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم پاکستان، چیئرمین سینیٹ آف پاکستان اور اسپیکر قومی اسمبلی آف پاکستان کو ریکارڈ کیلئے ارسال کرے۔ قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پیشکش کی کہ اس قرارداد میں اگر کچھ آئین اور قانون کے منافی ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے وہ تبدیلی کرنے کےلیے تیار ہیں کیونکہ پاکستان دشمنوں نے یہ مہم چلائی ہے کہ تاکہ پاکستان کی وحدت کو نقصان پہنچا کر انتشار پھیلا سکیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سندھ کی وحدت پر انگلیاں اٹھائی گئی ہیں اور اس ایوان نے اس کا بھرپور جواب دیا ہے۔ 2014اور2019میں بھی سندھ کو ٹکڑے کرنے کی باتیں کی گئی اسی ایوان نے اس وقت بھی بھرپور جواب دیا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یاد دلایا کہ 2019میں جب ایک وفاقی وزیر نے سندھ کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات کی تھی، اسی ایوان نے متفقہ قرارداد کے ذریعے ان کو جواب دیا تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس وقت اس قراداد کے حق میں ووٹ دیا تھا، اب اگر متحدہ لکیر کے دوسرے طرف کھڑی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ہم اسی کو صاف کرنے کےلیے قرارداد لائے ہیں۔ ایم کیو ایم لکیر کے دونوں طرف کھیل نہیں سکتی، اسے اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں جب ایم کیو ایم نے اپنے قائد سے لاتعلقی ظاہر کی اس وقت بھی وہ وزیراعلیٰ تھے اور جانتے ہیں کہ وہ کیسے ہوا، اس وقت کیا حالات تھے اور ایم کیو ایم کیا کر رہی تھی تاہم وہ اس کی تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ وزیر منصوبہ بندی و ترقیات جام خان شورو نے اپنی تقریر میں تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ برصغیر پر جب انگریز نے قبضہ کیا تو سب سے پہلے جدوجہد سندھ سے شروع ہوئی، کبھی ہیموں کالانی تو کبھی بڑے پیر پاگارو نے قربانی دی۔ جب سندھ کو ممبئی کے ساتھ جوڑا گیا تو سندھ کے شعور نے جواب دیا، قانونی اور آئینی جدوجہد سے اس فیصلے کو واپس کرایا گیا اور سندھ کا جداگانہ تشخص بحال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج سندھ ترقی کر رہا ہے جو مخالفین سے برداشت نہیں ہو رہا۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ان کو وہ کراچی چاہیے جن میں بوری بند لاشیں ملتی تھیں، ان کے لیڈر نے کہا تھا کہ ٹی وی بیچ کر کلاشنکوف خریدیں، ان کو وہ ماحول چاہیے اس لیے ایم کیو ایم انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کل گورنر ہاؤس اور آج اسمبلی میں بھی تاریخ مسخ کی گئی، کہا گیا کہ کراچی سندھ کا حصہ رہا ہی نہیں تھا، کیماڑی میں آج بھی تالپوروں کے دور کی توپیں لگی ہوئی ہیں جو کراچی کی حفاظت کےلیے لگائی گئی تھی، انہوں نے سوال کیا کہ روڈ رستے، گٹر بننے میں مسائل ہیں تو کیا سندھ کی تقسیم بات کی جائےگی؟ انہوں نے اس سازش کی مذمت کرنے والے اردو بولنے والوں کو سلام پیش کیا۔انہوں نے اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ پی ایس ڈی پی میں وفاق باقی صوبوں کو اربوں روپے کے پروجیکٹ دیتا ہے لیکن سندھ کو برائے نام منصوبے دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کے فور منصوبے کےلیے سندھ نے وفاق سے پیسے نہیں مانگے بلکہ وفاق نے خود پیشکش کی کہ وہ اس میں حصہ ڈالےگا۔ وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ آئینی طور پر کراچی کو وفاق کے حوالے کبھی نہیں کیا جا سکتا لیکن عملی طور پر کراچی وفاق کے حوالے ہو چکا ہے اور وہ سابق صدر پرویز مشرف کا دور تھا جب سندھ میں ایم کیو ایم کی حکومت تھی اور کراچی عملی طور پر وفاق کے حوالے تھا لیکن کراچی کو کیا ملا ؟ کراچی کو چائنا کٹنگ، بھتہ خوری اور بوری بند لاشیں دی گئیں، یہاں کے پلے گراؤنڈ شادی ہالز میں تبدیل کر دیے گئے۔ یہاں تک کہ فٹ پاتھ بھی فروخت کر دیے گئے۔ یہ اس وقت ہوا جب کراچی بالواسطہ طور پر وفاق کے حوالے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی صورت پاکستان یا صوبہ سندھ پر میلی آنکھ نہیں پڑنے دیں گے۔ جو لوگ نفرت کی سیاست کرتے ہیں، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عوام بھی انہیں پذیرائی نہیں دے رہی۔ قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ارکان نے سندھ کو تقسیم کرنے یا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی مخالفت کی اور سندھ کی وحدت کےلیے وزیراعلیٰ سندھ کی پیش کردہ قرارداد کی بھرپور حمایت کی۔ ایم کیو ایم کے اراکین قراراداد پر کوئی واضح آئینی یا قانونی اعتراض پیش کرنے کی بجائے ادھر ادھر کی ہانکتے رہے۔ ایم کیو ایم ارکان کی پوری توجہ ایوان کا ماحول خراب کرنے پر مرکوز رہی۔ ایوان نے وزیراعلیٰ سندھ کی قرارداد کو بھاری اکثریت سے منظور کرلیا اور سندھ کی وحدت کے تحفظ ، کراچی کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کےلیے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔