• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختونخوا، انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب، 14 نوجوان لیبیا میں لاپتہ

پشاور (ارشد عزیز ملک )خیبر پختونخوا میں انسانی اسمگلنگ کا ایک ہولناک اور منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے، جس میں 14 نوجوانوں کو بہتر مستقبل اور یورپ پہنچانے کے خواب دکھا کر مبینہ طور پر لیبیا منتقل کیا گیا، تاہم وہ گزشتہ دو ماہ سے پراسرار طور پر لاپتہ ہیں۔ بیشتر نوجوانوں کا اپنے اہل خانہ سے آخری رابطہ 18 دسمبر کو ہوا، جس میں انھوں نےبتایا تھا کہ ان کے ساتھ 47 خیبر پختونخوا کے نوجوان موجود ہیں۔جس کے بعد سے نہ کوئی اطلاع ملی اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی مستند سراغ سامنے آ سکا ہے، جس نے خاندانوں کو شدید اضطراب اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے. ان نوجوانوں میں پشاور کا 25 سالہ عمر خان بھی شامل ہے، جس نے 13 ستمبر کو پاکستان سے روانگی کی اور 22 ستمبر کو لیبیا پہنچا۔ ان کا سفر انتہائی پیچیدہ تھا: پشاور سے کراچی پہنچے ،عمر خان کی ٹریول ہسٹری کے مطابق وہ 11 ستمبر کو سری لنکن ایئرلائن سے کراچی سے کولمبو، سری لنکا پہنچے۔15 ستمبر کو کولمبو سے دبئی پہنچے۔17 ستمبر کو دبئی سے سعودی عرب کے لیے روانہ ہوئے۔20 ستمبر کو جدہ سے واپس دبئی آئے۔21 ستمبر کو دبئی سے مصر پہنچے اور پھر 22ستمبر 2025 کو لیبیا پہنچے 18 دسمبر تک اس کا رابطہ فیملی کے ساتھ رہا عمر خان کے والد لال زر خیل اور سلامت خیل نے جنگ کو بتایا کہ عمر خان نے یورپ جانے کے لیے ایک ایجنٹ کو 35 لاکھ روپے ادا کیے، عمر خان کی شادی چار سال قبل ہوئی اور اس کی دو بیٹیاں ہیں۔پاکستان میں پولٹری فارم کا کام کرتا تھاعمر خان کے چچا نے بتایا کہ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت سے رابطہ کیا، جس کے بعد سیٹزن پورٹل پر بھی شکایت درج کرائی گئی جس پر حکام نے لیبیا کے سفارت خانے سے رابطہ کیا۔ جس پر جواب آیا کہ محترم شہری کی شکایت (FC030226-92386389) سٹیزن پورٹل پر حل کر دی گئی ہے۔لیبیا کے سفارت خانے کے مطابق معاملہ وزارت خارجہ و بین الاقوامی تعاون، ریاست لیبیا کے ساتھ اٹھایا گیا ہے اور متعلقہ اداروں سے جواب موصول ہونے پر انھیں آگاہ کر دیا جائے گا۔سلامت خیل نے جنگ کو بتایا کہ عمر کا فون آیاتھا اور اس نے بتایا تھا کہ اس کے ساتھ خیبرپختونخوا کے 47 نوجوان موجود ہیں جبکہ 50 کے قریب نوجوان دیگر علاقوں اور ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔سلامت خیل نے بتایا کہ عمر نے آخری رابطہ زووارہ کے علاقے سے کیا ذرائع کے مطابق پشاور ،دیر ،باجوڑ ،پاراچنار اور صوبے کے دیگر علاقوں میں انسانی سمگلرروں کے اس نیٹ ورک کے کارندے کام کررہے ہیں۔نیٹ ورک کے لوگ لیبیا میں ایجنٹ سے رابطے میں رہتے ہیں 47 نوجوانوں میں سے 14 کا ڈیٹا جمع ہو سکا ہے جن میں سے دو کا تعلق پشاور ، ایک کا نوشہرہ ، ایک کا صوابی ، ایک باجوڑ اور باقی کا تعلق ضلع کرم سے ہے ۔تحقیقات کے دوران چند نام اور پاسپورٹ نمبر سامنے آئے ہیں جو نوجوان لیبیا میں لاپتہ ہیں ان کے نام اور پاسپورٹ نمبر کچھ اس طرح ہیںآدم خان – TM4105513 – ضلع نوشہرہاقبال حسین – ZX6909502 –ضلع کرمفرمان اللہ – AL8953531 – ضلع باجوڑذیشان حیدر – EK6975831 – ضلع کرمعباس علی – TV1019091 – ضلع کرمواجد حسین – PT6907762 –ضلع کرممحمد معاز – BK0896131 – صوابی سید عارف حسین – HS1986162 – کرمعمر خان – RF4142482 –ضلع پشاورمبشر حسین – UH6901312 – کرمحیدر عباس – VX1010881 – کرممشاہد حسین – VY6905512 – کرمریاض حیات – R5267629 – پشاورعلی ہادی – BQ6493861 – کرمایک ایجنٹ نے اس نمائندے کو بتایا کہ انہوں نے لیبیا تک تمام ٹکٹس اور قانونی طریقے سے ویزے حاصل کیے تھے، اس میں کوئی غیر قانونی عمل شامل نہیں تھا، تاہم لیبیا کے بعد ان نوجوانوں کی اپنی ذمہ داری تھی کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ کہاں جانا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان سے قانونی ویزے حاصل کر کے ایئرلائن کے ذریعے سفر کرتے ہیںغیر ملکی ایجنٹوں کے نامکمل نام اور نمبر درج ذیل ہیں تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں:ابراہیم، عمر، تنزیل، جابر، معاذ، عمران، ذیشان00218903464, 0021893427, 009747042, 0021893026, 00218993464, 0096654365, 009230690, 0021893000, 0096654365, 00218931031, 0021893020,زووارہ لیبیا کے شمال مغرب میں بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ایک اہم ساحلی شہر ہے۔ یہ شہر Tunisia کی سرحد کے قریب واقع ہےجبکہ دارالحکومت ٹرپولی سے تقریباً 100 سے 120 کلومیٹر مغرب کی جانب بحیرہ روم کے مرکزی راستے پر واقع ہےزووارہ کا نام اکثر انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے تناظر میں سامنے آتا ہے۔ یہاں سے کشتیوں کے ذریعے تارکین وطن بحیرۂ روم عبور کرکے زیادہ تر اٹلی کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں -مغربی لیبیا میں کمزور حکومتی کنٹرول اور مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی کے باعث یہ علاقہ انسانی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے لیے ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہےایف آئی اے کے ایک افسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ کیس انسانی اسمگلنگ کے خطرناک اور پیچیدہ جال کو واضح کرتا ہے۔ نوجوان بھاری رقوم اور جھانسوں میں آ کر غیر قانونی راستوں سے بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں، جہاں ان کی حفاظت اور جان شدید خطرے میں ہوتی ہے۔انھوں نے بتایا کہ لیبیا سے کشتیوں کے ذریعے یورپ لے جایا جاتاہے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مائیگریشن کے مطابق لیبیا سے یورپ تک جانے والا وسطی بحیرہ روم کا راستہ بدستور دنیا کے مہلک ترین ہجرتی راستوں میں سے ایک ہے۔ادارے کے مطابق اس کے مسنگ مائیگرنٹس پراجیکٹ نے 2025 میں اکتوبر تک اس راستے پر 1,046 ہلاکتوں اور لاپتا ہونے کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے، جن میں سے 527 اموات لیبیا کے ساحل کے قریب رپورٹ ہوئیں۔
اہم خبریں سے مزید