کراچی (جنگ نیوز)ایف آئی اے کے زیر تفتیش میڈیا میں آنے والے حالیہ واقعے کے حوالے سے زی ٹو سی نے واضح کیا ہے کہ اس کا زیرِ تفتیش معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میڈیا میں جس شخص کا ذکر کیا گیا ہے، اس نے متعلقہ اقدامات اپنی ذاتی حیثیت میں کیے۔ ایف آئی اے اس شخص کے جن اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے وہ اقدامات اس شخص نے زی ٹو سی کی طرف سے یا اس کے نمائندے کے طور پر نہیں کیے، نہ ہی اس شخص کا کمپنی کی سرگرمیوں، مالی امور، صارفین یا کاروباری معاملات سے کوئی تعلق ہے۔ کمپنی کا کوئی سسٹم، اکاؤنٹس یا فنڈز اس معاملے میں استعمال نہیں ہوئے۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ زی ٹو سی کسی تفتیش کی زد میں نہیں ہے۔کمپنی پالیسی کے مطابق فوری طور پر متعلقہ شخص کو تمام ذمہ داریوں سے معطل کر دیا گیا ہے، اور قانونی عمل اور داخلی جائزے کے نتائج تک یہ شخص اپنے فرائض انجام نہیں دے گا۔زی ٹو سی نے اعادہ کیا ہے کہ وہ مکمل ضابطہ جاتی تقاضوں کا پابند ادارہ ہے۔ اس کی تمام ٹرانزیکشنز باضابطہ بینکاری ذرائع سے اور متعلقہ قوانین کے مطابق انجام ہوتی ہیں۔ضرورت پڑنے پر کمپنی متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ واضح رہے کہ ایک شائع شدہ خبر میں بتایا گیا تھا کہفیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کے کمرشل بینک سرکل کراچی نے ایک بڑی کاروائی کرتے ہوئے شہر کے پوش علاقے میں واقع ایڈورٹائزنگ ایجنسی پر چھاپہ مار کر ہنڈی حوالے کا ایک بہت بڑا ملزم گرفتار کر لیا۔ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نےاب تک 73کروڑ 50لاکھ روپے اسپورٹس چینل کوبھجوائے ہیں۔ ان انکشافات کے بعد ملزم کے خلاف مقدمہ نمبر 10/26درج کیا گیا اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔