انسٹاگرام نے اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی کم عمر صارف مختصر وقت میں بار بار خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق مواد تلاش کرے گا تو اس کے والدین کو مطلع کیا جائے گا۔
یہ پالیسی ابتدائی طور پر امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا میں نافذ کی جائے گی، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا پر کم عمر بچوں کی رسائی محدود کرنے کے لیے مختلف ممالک میں دباؤ بڑھ رہا ہے۔
انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا پلیٹ فارمز کے مطابق یہ الرٹس صرف اُن والدین کو بھیجے جائیں گے جو پلیٹ فارم کی ’سُپر ویژن‘ سیٹنگ استعمال کر رہے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے والے مواد کی تشہیر سختی سے ممنوع ہے اور ایسے سرچ کے نتائج کو بلاک کر کے صارفین کو مددگار وسائل کی طرف بھی بھیجا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے بعد دیگر ممالک بھی قوانین پر غور کر رہے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں یونان، اسپین اور سلووینیا نے بھی کم عمر افراد کی آن لائن رسائی محدود کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
برطانیہ میں بچوں کو آن لائن نقصانات سے بچانے کے لیے سخت اقدامات زیرِ غور ہیں جبکہ حالیہ تنازعات میں اے آئی چیٹ بوٹ ’گروک‘ کی جانب سے نامناسب مواد کی تیاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انسٹاگرام کے مطابق 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس میں سیٹنگز تبدیل کرنے کے لیے والدین کی اجازت لازمی ہے جبکہ اضافی نگرانی بھی والدین اور بچے کی رضامندی سے فعال کی جا سکتی ہے۔