اسلام آباد( ممتاز علوی) سینیٹ نے جمعہ کے روز ورچوئل اثاثہ جات بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا جسکا مقصد ملک میں ورچوئل اثاثہ جات کی لائسنسنگ، ریگولیشن اور نگرانی کیلئے ایک باقاعدہ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنا ہے تاکہ عالمی سطح پر ورچوئل اثاثوں کو منظم کرنے کی کوششوں سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔مجوزہ قانون کے تحت پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جو ایک خودمختار کارپوریٹ ادارہ ہوگا اور پاکستان میں ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم کرنے والوں کو لائسنس جاری کرنے، انکی نگرانی اور ضابطہ کاری کا اختیار رکھے گا۔متعلقہ قواعد معطل کر کے اس بل کو فوری غور و منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا گیا، جسے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ سرمایہ کاروں کے تحفظ اور مارکیٹ کی سالمیت کو یقینی بنانے کیلئے جدید مالیاتی نظام سے متعلق اتھارٹی ناگزیر تھی،اتھارٹی کے قیام سے منی لانڈرنگ اور فراڈ کے روک تھام میں مدد ملے گی۔ یہ خودمختار ادارہ ورچوئل اثاثہ معیشت کی نگرانی کریگا، عالمی انسدادِ منی لانڈرنگ معیارات پر عمل درآمد یقینی بنائے گا اور ریگولیٹری سینڈ باکسز کے ذریعے مالیاتی جدت کی حوصلہ افزائی کرے گا، کیونکہ پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی مارکیٹ اب تک مؤثر نگرانی کے بغیر کام کر رہی تھی جس سے منی لانڈرنگ اور مالی جرائم کے خدشات پیدا ہو رہے تھے۔اتھارٹی کرپٹو کرنسیز، ڈیجیٹل ٹوکنز اور بلاک چین پر مبنی اثاثوں سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے باقاعدہ لائسنسنگ نظام متعارف کرائے گی، چاہے وہ پاکستان میں خدمات دے رہی ہوں یا پاکستان سے باہر۔ مزید برآں، ریگولیٹر ورچوئل ایسٹس اپیلیٹ ٹریبونل (VAAT) بھی قائم کرے گا جو تنازعات کے حل، شفافیت، قواعد کی پابندی اور مالیاتی دیانت کو یقینی بنائے گا۔یہ اقدام متحدہ عرب امارات، سنگاپور، بھارت اور یورپی یونین جیسے ممالک میں کیے جانے والے اقدامات کے مطابق ہے جہاں ورچوئل اثاثوں کو منظم کرنے کے لیے قانون سازی کی جا چکی ہے۔ وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت ورچوئل اثاثوں کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے اور مالیاتی نظام کو غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔