کراچی (نیوز ڈیسک) فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے ایران نے اماراتی کمپنی کے ذریعے چینی ملٹری سیٹلائٹ آلات حاصل کیے، پاسدارانِ انقلاب نے مبینہ خفیہ نیٹ ورک استعمال کیا، چینی سیٹلائٹ اینٹینا دبئی کے راستے ایران پہنچایا گیا۔ ایرانی جہاز نے نقل و حرکت چھپانے کیلئے جعلی سگنل نشر کیے، امریکی پابندیوں کے باوجود خریداری جاری رہی۔ یو اے ای کی فری زونز میں کمزور نگرانی کے باعث ایران عرصے سے تجارتی نیٹ ورکس استعمال کرتا رہا۔ فنانشل ٹائمز کی ایک تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات میں قائم ایک کمپنی کے ذریعے چین سے جدید سیٹلائٹ مواصلاتی آلات حاصل کیے، جو بعد میں ایرانی ڈرون اور میزائل پروگرام میں استعمال ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں تقریباً 1.8 ٹن وزنی سیٹلائٹ اینٹینا اور دیگر سامان شنگھائی سے دبئی کی جبل علی بندرگاہ لایا گیا، جہاں سے اسے ایرانی جہاز راما تھری کے ذریعے بندر عباس منتقل کیا گیا۔ فنانشل ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر اور شپنگ ریکارڈز کی بنیاد پر دعویٰ کیا کہ ایرانی جہاز نے اپنی اصل نقل و حرکت چھپانے کیلئے جعلی نیویگیشن سگنلز نشر کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ سامان “ٹیلی سن” نامی یو اے ای کمپنی کے ذریعے ایرانی کمپنی ارتیباطات فراگستر کیش کیلئے خریدا گیا، جو مبینہ طور پر ایرانی دفاعی نیٹ ورک سے جڑی ہوئی تھی۔