کوئٹہ / اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بیان میں کہا کہ ہم نے ہمیشہ آئین اور قانون کی حکمرانی اور بالادستی کے لیے کام کیا ہے اور عوام کے حقوق کا ہر سطح پر تحفظ کیا ہے۔ بلوچستان پاکستان کا وقار اور عزت ہے، اس کی دھرتی وفاداری اور شعور کی علامت ہے، اس کے عوام بہادر اور محبِ وطن ہیں، اور یہ سرزمین ملک کی سالمیت کے لیے لازوال قربانیاں دیتی رہی ہے۔ کچھ دن قبل میرے شوہر میر علی حسن زہری نے چیف سیکرٹری بلوچستان کے لیے غصے میں الفاظ کہے جو کسی بھی طرح مناسب نہیں تھے اور میں اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہوںلیکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ اس نہج تک بات کیسے پہنچی، انتظامی اہلکار نوجوانوں کے مستقبل کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے جذبات کی جڑ حب کے وہ پسماندہ نوجوان اور بچیاں ہیں جو میرٹ پر نوکری کے حقدار ہیں اور جنہیں وہ بغیر سفارش اور بغیر کسی مالی دبائوکے باعزت روزگار دلوانا چاہتے تھے۔ کیا یہ جرم ہے کہ ایک عوامی نمائندہ اپنے علاقے کے بے روزگار اور محروم نوجوانوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کرے؟ یہ اقدام کسی ذاتی انا یا حسد کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منصفانہ اور شعور یافتہ سوچ کا اظہار تھا جس کا مقصد ایک مساوی اور بہتر معاشرہ قائم کرنا ہے۔