کراچی (نیوز ڈیسک)امریکا واسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد دنیا کے کئی ممالک نے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں ،ایران نے پاکستان ، سعودی عرب ، ترکیہ اور کویت سے رابطے کئے ہیں جبکہ روس، چین، جرمنی، فرانس، اوربرطانیہ نے فریقین سے تحمل کا مظاہر کرنے کی اپیل ہے، چین نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیاہے ،روس نے کہا ہے کہ امریکا واسرائیل کے حملے "خطے کو انسانی، اقتصادی اور جوہری تباہی کے دہانے پر لا رہے ہیں، برطانیہ نے کہا ہے کہ ہم نے حملوںمیں کسی طرح بھی حصہ نہیں لیا تاہم برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ ہمارے جہاز خطے میں اپنے مفادات اور اتحادیوں کی حفاظت کیلئے آسمانوں پر متحر ک تھے۔ بیشتر خلیجی ممالک نے ایرانی میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔یورپی یونین کے وزراء خارجہ نے ایران پر حملوں کے بعد ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے ۔ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ایران پر امریکی و اسرائیلی اور ایران کے خلیجی ممالک پر جوابی حملوں کی مذمت کی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کو ٹیلی فون کیا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین علاقائی کشیدگی اور بعد ازاں بعض خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کیلئے انتہائی خطرناک اور صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں، وزیراعظم نے سعودیہ کو مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا ہے، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کی صورتحال پر گفتگو کی اور ایران پر حملوں کی مذمت کی ہے۔وائٹ ہائوس نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب ، قطر اورمتحدہ عرب امارات کے رہنمائوں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو فون کیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے امریکا-اسرائیل حملوں اور ایران کے ردعمل کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مزید حملوں کا نتیجہ صرف "موت، تباہی اور انسانی مصائب" کی صورت میں نکلے گا۔ وولکر ترک نے ایک بیان میں کہا، "میں تحمل کی اپیل کرتا ہوں اور تمام فریقین سے التجا کرتا ہوں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔" روس نے ایران پر امریکااور اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کی اور موقف اختیار کیا کہ یہ حملے "خطے کو انسانی، اقتصادی اور جوہری تباہی کے دہانے پر لا رہے ہیں"۔حزب اللہ نے مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی و اسرائیلی جارحیت کیخلاف اٹھ کھڑے ہوں ورنہ انہیں بھی اسی طرح کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔قطر، جہاں امریکی فوجی اڈہ موجود ہے، نے اپنی سرزمین پر ایرانی میزائل حملے کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ وہ "اس حملے کا جواب دینے کا اپنا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے"۔ یورپی یونین نے خطے کی صورتحال "خطرناک" ہونے پر تحمل کی اپیل کی، اور یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے اشارے کے بعد "ایٹمی سلامتی کو یقینی بنانا" نہایت "ضروری" ہے۔ ناروے کے وزیر خارجہ نے دلیل دی کہ ایران پر اسرائیل کے حملوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے، انہوں نے کہا کہ " پیشگی کے لیے کسی فوری خطرے کی موجودگی لازمی ہے"۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے خبردار کیا کہ یہ تنازع "بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہے،انہوں نے جاری "خطرناک" کشیدگی کو روکنے پر زور دیا۔ انہوں نے اس تنازع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔ لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے عہد کیا کہ ان کے ملک کو جنگ میں نہیں گھسیٹا جائے گا۔ ایران کے آخری شاہ کے بیٹے اور تہران کے بڑے ناقد رضا پہلوی نے حملوں کے بعد دعویٰ کیا کہ "آخری فتح" قریب ہے۔ امریکا میں واشنگٹن کے علاقے میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے پہلوی نے کہا، "ہم مل کر ایران کو واپس لے سکتے ہیں اور اسے دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں۔ اردن کی حکومت نے کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ مملکت کے مفادات کا "اپنی پوری طاقت سے" دفاع کرے گی۔ ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ ان کا ملک اس تنازع کا حصہ نہیں ہے۔ حماس نے تہران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی "جارحیت" کی مذمت کرتے ہوئے اسے "پورے خطے پر براہ راست حملہ" قرار دیا۔قبل ازیں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد سے گفتگو میں موجودہ صورتحال میں سعودی قیادت کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر حال میں، ہر وقت اور ہر مشکل گھڑی میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی ثابت قدم حمایت جاری رکھے گا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کے امیر، عزت مآب شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔