• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل اور امریکہ ایک بار پھر پوری قوت کیساتھ ایران پر حملہ آور ہوئے۔ طاقت کے نشے میں بدمست ہاتھیوں نے عالمی قوانین کو پائوں تلے روندتے ہوئے تہران کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔آہ،ایران کے86سالہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو شہید کر دیا گیا۔ اُداسی پورے جوبن پر ہے اور قلم نہ چاہتے ہوئے حالات کی نوحہ گری کی طرف مائل ہوا جاتا ہے۔ انقلاب کا زمانہ اور رہبر انقلاب روح اللہ خمینی کی باتیں یادآرہی ہیں۔ 1979ء میں شاہ ایران کا تختہ اُلٹ جانے کے بعد آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھی بنی صدر نے صدارت کا منصب سنبھالا۔ بنی صدر ایران کو ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن کرنا چاہتے تھے مگر رفسنجانی کا خیال تھا کہ بنی صدر پہلوی خاندان جیسی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ جدیدیت کے الفاظ استعمال کرنیکی جرات تو نہیں کرتے مگر جب وہ سائنس و ٹیکنالوجی کی بات کرتے ہیں تو انکا مطمح نظر یہی ہوتا ہے۔ آخر کار قدامت پرستوں نے بنی صدر کیخلاف بغاوت کردی اور ایک دن انہیں ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔ بنی صدر اپنی خود نوشت ’’My Turn to Speak‘‘میں لکھتے ہیں’’ بہشتی (خمینی کے معتمد خاص محمد حسینی بہشتی )جامعات میں جاکر نوجوانوں کوبتاتے کہ بنی صدر ایران میں صنعتی انقلاب لانا چاہتا ہے مگر اس حوالے سے مغرب کو کئی صدیوں کی سبقت حاصل ہے تو اس میدان میں مقابلے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ اس کے برعکس ہم خدائی فوجدار اپنی منشا مغرب پر مسلط کریں گے اور اسے مجبور کرینگے کہ اپنی ٹیکنالوجی ہمیں دے۔چنانچہ جنگ تو غنیمت ہے اور ہر طرف اسکا ابلاغ ہونا چاہئے۔ سائنس بمقابلہ ایمان ۔درحقیقت یہ کشمکش دو جملوں تک سمٹ آئی :مرنے کا فن بمقابلہ جینے کا سلیقہ ‘‘اس کتاب میں بنی صدر نے لکھا ہے کہ ایران کےسماجی مسائل کی نشاندہی کیلئے 3000 ماہرین تعلیم کی خدمات حاصل کی گئیںتو کہا گیا’’ ہمیں دانشوروں کی ضرورت نہیں۔ہمیں ڈیم بنانے، کارخانے لگانے اسپتال چلانے یا اسکول بنانے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ (انقلاب کے بعدقائم ہونیوالی)حکومت کا مقصد لوگوں کو یہ سکھانا ہے کہ مرنا کیسے ہے۔ اس مقصد کے تحت ہمیں بس تشدد کو منظم کرنا ہے۔‘‘انقلاب کے بعد رہبر اعلیٰ کا منصب طاقتورترین عہدہ بن گیاکیونکہ رہبر اعلیٰ کو کسی بھی حکومتی فیصلے کو ویٹو کرنیکا اختیار حاصل ہے۔ رہبر اعلیٰ جسکو چاہیں کسی بھی عوامی دفتر کیلئے منتخب کرسکتے ہیں۔ ریاست کے سربراہ اور افواج کے کمانڈر انچیف کے علاوہ مذہبی و روحانی پیشوا کی حیثیت سے تمام معاملات کی باگ ڈور رہبر اعلیٰ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 91کے تحت ’’شوریٰ نگہبان‘‘کے 12ارکان میں سے 6کو رہبر اعلیٰ نامزد کرتے ہیں جبکہ آرٹیکل 157کے تحت چیف جسٹس کا تقرر بھی رہبر اعلیٰ کا استحقاق ہے۔اسی طرح دستور کی شق 110کے تحت ’’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘‘سے مشاورت کے ذریعے ملک کی عمومی پالیسی اور حکمت عملی ترتیب دینا بھی رہبراعلیٰ کے فرائض میں شامل ہے۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی نے ایران کے پہلے سپریم لیڈر کی حیثیت سے خامنہ ای کو تہران میں جمعہ کی نماز کا امام مقرر کیا۔1981 ء میں خامنہ ای ایران کے صدر منتخب ہوئے جبکہ 1989ء میں آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد خامنہ ای کو انکا جانشین مقرر کیا گیا۔مگر شاید آیت اللہ خمینی سے آیت اللہ خامنہ ای تک ریاستی پالیسی یہی رہی کہ لوگوں کو جینے کا سلیقہ اور شعور دینے کے بجائے مرنے کا فن سکھایا جائے۔انقلاب ایران کے بعد عراق سے جنگ کا موقع آیا تو ایرانی توپخانے کی رینج 35کلومیٹر تھی جبکہ عراق کے پاس جو سکڈبی میزائل تھے ،وہ 300کلومیٹر تک مار کرسکتے تھے۔ بعد ازاں ایران نے میزائل سازی کے شعبے میں بہت ترقی کی۔ بیلسٹک، کروز اور ہائپر سونک میزائل بنائے جو 2500کلومیٹر ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تہران کے قریب Alborzکے پہاڑی سلسلے میں سنگلاخ چٹانوں کو کاٹ کر زیرزمین سرنگیں بنائی گئیں تاکہ میزائل تیار کرنے کے بعد ذخیرہ کئے جاسکیں ۔بعض مقامات پر یہ زیر زمین سرنگیں 500سے 700میٹر تک گہری ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ B52بمبار طیاروں سے میزائل داغنے کے باوجود یہ ذخائر تباہ نہ کرسکا۔ شاید ’’بنی صدر‘‘ جیسے ناخلف اور باغی حکمرانوں نے اس سمت پیشقدمی کی ہوگی۔ رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے احکامات پر ہی میزائلوں کی رینج مزید بڑھانے کا کام روک دیا گیا۔ ایران نے ایٹم بم بنانے کی کوشش کی ،عالمی سطح پر شدید مزاحمت اور پابندیوں کے باوجود جوہری پروگرام جاری رکھا۔ نجانے کتنے سائنسدان قتل ہوئے مگر پھر رہبر اعلیٰ علی خامنہ ا ی نے فتویٰ دیدیا کہ ایٹمی ہتھیار بنانا اور انہیں استعمال کرنا اسلام میں حرام ہے۔ اگر ایران نے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی ہوتی، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں مغرب کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جاتی، بنی صدر جیسے ترقی پسند لوگوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جاتا ،لوگوں کو مرنے کا فن نہیں بلکہ زندگی کا سلیقہ سکھایا جاتا تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ پہلے انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا۔ پھر حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کو تہران میں شہید کیا گیا اور اب رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنائی کو انکی صاحبزادی، داماد اور نواسے سمیت شہید کر دیا گیا۔ یہ جرم ضعیفی کی سزا نہیں تو اور کیا ہے۔ آپ چاہیں تو امریکی استعمار کیخلاف ڈٹ کر کھڑے رہنے کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ ’’جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے‘‘۔ مگر تکلف برطرف،سورۃ انفعال کی اس آیت کا کیا مفہوم ہے جس میں کفار کے مقابلے میں گھوڑے تیار رکھنے کا حکم ہے؟ مرنے کیلئے تو کسی قسم کی تیاری درکار نہیں ہوتی۔مقابلہ کرنے کیلئے طاقت مجتمع کرنا پڑتی ہے۔ واقعات وحالات کے مطابق ہتھیار بنانے پڑتے ہیں ،مومن کبھی بے تیغ نہیں لڑتا۔

تازہ ترین