• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں مظاہروں اور رد عمل کا سلسلہ جاری، خامنہ ای کی شہادت پر چین اور روس کی مذمت

کراچی، ماسکو، تہران (نیوز ڈیسک، اے ایف پی) ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر دنیا بھر میں مظاہروں اور رد عمل کا سلسلہ جاری ہے ، بیشتر مغربی رہنماؤں کا خامنہ ای کی شہادت کا خیر مقدم،چین،روس اور شمالی کوریا کی مذمت،مودی کی پراسرار خاموشی،ایران کے دارالحکومت تہران اصفہان اور مشہد سمیت دیگر شہروں میں ہزاروں ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے،مشہد میں امام رضا کے گنبد کا پرچم سیاہ ماتمی رنگ میں تبدیل کردیاگیا ہے ،فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران میں لوگ ’سورج طلوع ہونے سے پہلےہی تہران کے انقلاب سکوائر پر جمع ہو گئے۔‘لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے، انہوں نے شہید رہبر اعلیٰ خامنہ ای کی تصاویر اور ایرانی پرچم اٹھا رکھےتھے۔ عراقی دارالحکومت بغداد، کربلا اور کشمیر میں بھی ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ بغداد میں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کا گھیراؤ کرلیا ، مظاہرین نے دھاوا بولنے کی کوشش بھی کی، لبنان میں حزب اللہ کے حامی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ، یمن میں بھی دسیوں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے شہید خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے رکھی تھیں، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کو اخلاقیات اور قانون کی "سفاکانہ خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ چین نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکا اور اسرائیل کے ہاتھوں شہادت کی شدید مذمت کی اور ایک بار پھر فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ترک صدررجب طیب ایردوان نے خامنہ ای کی شہادت پر ایران کیساتھ افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ترک صدر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے خطے کی صورتحال پر بات چیت بھی کی ہے۔ ایران کیخلاف برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی میدان میں آگئے ہیں، تینوں ممالک نے خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کااعلان کیا ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس کے جہازوں نے قطر کی بڑھنے والے ایرانی ڈرونز فضا میں مار گرائے ہیں ۔ خلیج تعاون کونسل نے خطے میں ایرانی میزائل حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی توانائی مارکیٹ اور سپلائی چین کے تحفظ کیلئے ایرانی حملے رکوائے جائیں۔نیٹو (NATO) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا گہرائی سے مشاہدہ کر رہا ہے، اور یورپ میں ان کے اعلیٰ کمانڈر "ممکنہ خطرات" کے خلاف دفاع کے لئےضرورت کے مطابق افواج کی ترتیبِ نو کر رہے ہیں۔نیٹو کے ترجمان نے کہا کہ نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ، امریکی جنرل الیکسس گرینکیوچ، "بحرِ اوقیانوس کے دونوں اطراف (امریکا اور یورپ) کے فوجی رہنماؤں کے ساتھ فعال اور باقاعدگی سے رابطے میں ہیں۔"بیان میں مزید کہا گیا کہ اعلیٰ کمانڈر نے "نیٹو کی انتہائی مضبوط فوجی پوزیشن کو برقرار رکھا ہے اور وہ اس میں تبدیلیاں لاتے رہیں گے تاکہ اپنے 32 رکن ممالک کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور اس خطے یا دیگر خطوں سے ابھرنے والے ممکنہ خطرات، جیسے کہ بیلسٹک میزائل یا بغیر پائلٹ کے فضائی طیارے (ڈونز)، سے اتحاد کا دفاع کیا جا سکے۔"قبل ازیںاتوار کوروس کے صدارتی دفتر کریملن نے ایک پیغام شائع کیا جو پیوٹن نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان کو بھیجا، جس میں روسی رہنما نے خامنہ ای کے "قتل" پر اپنی "گہری ترین تعزیت" کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ قتل انسانی اخلاقیات کے تمام اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی سفاکانہ خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا۔پیوٹن نے کہا کہ خامنہ ای کو ایک مایہ ناز مدبر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے دوستانہ روسی-ایرانی تعلقات کی ترقی میں بہت بڑا ذاتی کردار ادا کیا۔

اہم خبریں سے مزید