کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ امریکی قونصلیٹ پر احتجاج کرنے والوں پر اگر امریکی میرنیز نے گولیاں چلائی ہیں تو وزیراعظم شہباز شریف بتائیں کہ ان کو کس نے اختیار دیا ہے۔ اس افسوسناک واقع کی انکوائری ہونی چاہئے اور پوری دنیا کے سامنے آنا چاہئے کہ کس نے عوام پر گولیاں چلائیں۔ حکمرانوں کی بے شرمی کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے، اسکی انکوائری ہونی چاہئے اور دنیا کے سامنے آنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں آرسی ڈی گراؤنڈ ہونے والے جلسے اور ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے ٹرمپ کا 2 دفعہ نوبل پرائز کے لیے نام دیا۔ جبکہ امریکہ و اسرائیل نے غزہ میں 80 ہزار سے زائد لوگوں کو شہید کیا گیا۔ ویسٹ بینک میں بھی ہزاروں لوگوں کو مارا جارہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا جائے ۔ حملہ صرف ایران پر نہیں بلکہ پاکستان،عالمِ اسلام اور پوری انسانیت پر ہے۔جماعت اسلامی نے آر سی ڈی گراؤنڈ میں ہونے والے جینے دو کراچی جلسے عام کو ”امریکہ اسرائیل مردہ باد، مزاحمت میں زندگی ہے“ کے عنوان سے تبدیل کر دیا گیا، غائبانہ نماز جنازہ رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق کی امامت میں ادا کی گئی۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے ملک بھر میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی غائبانہ نماز ادا کرنے کی اپیل پر کراچی میں آر سی ڈی گراؤنڈ ملیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ اسرائیل مردہ باد جلسہ عام اور ادارہ نورحق میں بین الاقوامی و ملکی صورتحال کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو بدترین عالمی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ صرف ایران پر نہیں بلکہ پاکستان،عالمِ اسلام اور پوری انسانیت پر حملہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں رجیم چینج اور اعلیٰ ایرانی قیادت کو ٹارگٹ کرنے کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ عالمی دہشت گردی کا سرغنہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا جانا چاہئے۔