• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آیت اللّٰہ خامنہ ای کون تھے؟ ایران کی سب سے طاقتور شخصیت پر ایک نظر

تہران( نیوز ڈیسک)علی خامنہ ای 1939ء میں ایران کے شہر مشہد میں ایک مقامی مذہبی رہنما، جواد خامنہ ای کے گھر میں پیدا ہوئے اور انہوں نے نسبتاً غربت میں پرورش پائی، وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ انہوں نے مشہد میں ایک مدرسے میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عراق کے شہر نجف سے فقہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں وہ آیت اللہ خمینی کے طالب علم تھے۔ بطور رہبرِ اعلیٰ، خامنہ ای کو کسی بھی حکومتی معاملے میں ویٹو کی طاقت حاصل رہی، اس کے علاوہ ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ جس کو چاہیں، کسی بھی عوامی دفتر کے امیدوار کے طور پر منتخب کر سکتے تھے۔ریاست کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ناتے وہ ایران کے سب کے طاقتور شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔خامنہ ای بہت کم ایران سے باہر جاتے تھے اور مرکزی تہران میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک سادہ زندگی گزارتے تھے۔1989ء میں امام خمینی کی وفات کے بعد خامنہ ای سپریم لیڈر بنے، انہیں اسلامی علما کے 88 رکنی ادارے مجلس خبرگان نے نیا لیڈر نامزد کیا تھا۔وہ صرف روحانی پیشوا نہیں ہیں بلکہ حکومت کی سمت کا تعین کرنے، مسلح افواج کی کمان اور عدلیہ کے سربراہ کی تقرری میں مشاورت تک ان کے فرائض میں شامل تھی۔1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں خامنہ ای شاہ ایران کے خلاف مظاہروں میں شامل رہے اور وہ اس وقت جلاوطنی میں رہنے والے آیت اللّٰہ روح اللّٰہ خمینی کے کٹر حامی تھے۔خامنہ ای کئی برسوں تک روپوش رہے اور انھیں جیل بھی کاٹنی پڑی، شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انھیں 6 مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو ایک خاص نام دیتے ہیں۔ وہ اسے ’مزاحمت کا جغرافیہ‘ قرار دیتے ہیں۔1979ء کے انقلاب میں شاہ کا تختہ الٹے جانے کے بعد، ایران ایک اسلامی جمہوریہ بن گیا، خامنہ ای کو انقلاب کا انتظام سنبھالنے کے لیے قائم کی گئی اسلامی انقلابی کونسل کا رکن مقرر کیا گیا۔1981ء میں وہ 95 فیصد ووٹ حاصل کر کے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے، خامنہ ای قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے تھے، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور ان کا دایاں بازو ناکارہ ہو گیا تھا۔
اہم خبریں سے مزید