• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جامعہ کراچی بحران: وزیر جامعات نے آج اجلاس طلب کرلیا

کراچی(سید محمد عسکری) سندھ کے وزیر برائے جامعات و بورڈز اسماعیل راہو نے جامعہ کراچی میں اساتذہ، افسران اور ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے جاری 40 روزہ احتجاج اور امتحانات و تدریسی سرگرمیوں کے بائیکاٹ کا نوٹس لیتے ہوئے منگل  9جون کو سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) میں ایک اعلیٰ سطح کااجلاس طلب کر لیا ہے۔ جنگ/دی نیوزسے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے کہا کہ امتحانات کے بائیکاٹ کے باعث طلبہ کو شدید تعلیمی نقصان پہنچا ہے، جس کے پیش نظر جامعہ کراچی کی انجمن اساتذہ، افسران اور ملازمین کی تنظیموں کے نمائندوں کو مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع، سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ، سیکریٹری سندھ ایچ ای سی نعمان احسن اور چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر سروش لودھی بھی شرکت کریں گے۔وزیر جامعات کے مطابق اجلاس میں جامعہ کراچی کے اساتذہ اور ملازمین کے مطالبات، انتظامی و مالی معاملات اور دیگر مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جائز مطالبات کے حل کے لیے قابلِ عمل لائحۂ عمل مرتب کرے گی، جبکہ شرکاء سے احتجاج اور امتحانات کے بائیکاٹ کے خاتمے کی بھی درخواست کی جائے گی تاکہ تعلیمی سرگرمیاں معمول پر آسکیں۔یاد رہے کہ تقریباً 10 روز قبل سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں انجمن اساتذہ کے نمائندوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر جامعہ کراچی میں مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی جائے تو وہ احتجاج اور امتحانات کے بائیکاٹ کو ختم کر دیں گے۔بعد ازاں حکومت کی جانب سے مذکورہ کمیٹی قائم کر دی گئی اور جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بائیکاٹ کے خاتمے کا حوالہ بھی شامل کیا گیا تھا۔ تاہم اگلے روز جب انجمن اساتذہ کے عہدیداروں نے یہ معاملہ اجلاس عمومی میں پیش کیا تو اساتذہ کی اکثریت نے احتجاج ختم کرنے اور امتحانات بحال کرنے کی مخالفت کی۔

اہم خبریں سے مزید