اسلام آباد(جنگ رپورٹر/اے پی پی ) وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر، عقیل ملک نے کہا ہے کہ ملک بھر کی عدالتوں میں22لاکھ60ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، جو صرف ایک قانونی مسئلہ ہی نہیں بلکہ ایک انسانی و معاشی بحران بن چکا ہے،سپریم کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے تنازعات کے حل کیلئے ’’عدالت سے پہلے مصالحت‘‘ کے تصور کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے نظامِ انصاف کو عدالتی مقدمات پر انحصار کم کرکے ثالثی کو ترجیح دینی چاہیےجسٹس اورنگزیب نے ان ادارہ جاتی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی جو اصلاحاتی عمل کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این آئی آر سی طویل عرصے تک چیئرمین کے بغیر کام کرتا رہا جبکہ بعض مواقع پر کمیشن کے ارکان انتظامی صوابدید کے رحم و کرم پر رہے۔ ان کے مطابق اگر این آئی آر سی میں مجوزہ ثالثی مرکز کو کامیاب بنانا ہے تو بنیادی ادارے کو مضبوط، خودمختار اور مکمل افرادی قوت سے لیس ہونا ہوگا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء اور لیگل ایڈ سوسائٹی کی جانب سے متبادل تنازعاتی حل ایکٹ 2017 (ADR Act 2017) کے موثر نفاذ کے لیے پیش کی گئی ایک جامع اصلاحاتی رپورٹ کی تقریب رونمائی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،تقریب سے سابق جسٹس (ر)عارف حسین خلجی ،وفاقی سیکرٹری قانون راجہ نعیم اکبر،ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جمال عزیزنے ، بلال صوفی بھی خطاب کیا۔