اسلام آباد (مہتاب حیدر) پاکستان میں اربوں کھربوں روپے پر مشتمل بڑے ٹیکس تعمیل کے خلا کے پیش نظر حکومت نے آٹو ٹیکس دفتر کے لیے ایک مجوزہ آپریٹنگ ماڈل تیار کیا ہے، جس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ان لینڈ ریونیو سروس کو تین بڑے وِنگز میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ اسے اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کے ماڈل سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس مجوزہ ماڈل کو پاکستان میں مرحلہ وار انداز میں تین سال سے زائد عرصے میں نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ ماڈل عالمی بینک کے مختلف ٹیکس ماڈلز کی بنیاد پر کئی سالوں میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کی تیاری کے لیے پاکستان نے بھارت، آسٹریلیا، سنگاپور، برطانیہ، نیدرلینڈز اور اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم کے ٹیکس ماڈلز کا مطالعہ کیا ہے۔