واشنگٹن (جنگ نیوز)امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں، جس میں ایران کی اعلیٰ قیادت کی اکثریت ماری گئی ہے، کے بعد دونوں امریکا کی بڑی سیاسی جماعتوں کے قانون سازوں نے اتوار کو کہا کہ امریکہ نے ابھی تک ایران کے لیے "حملے کے بعد کی حکمت عملیواضح نہیں کی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے، جو ہفتے کے حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادتکے بعد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ٹرمپ کی اب تک کی عوامی حکمت عملی اس امید پر مبنی ہے کہ دہائیوں کے جبر کے بعد ایرانی عوام خود اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔تمام قانون سازوں نے ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کی مخالفت کی۔ سینیٹ انٹیلیجنس کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین ٹوم کاٹن نے کہا، "آگے کیا ہونے والا ہے اس کا کوئی سادہ جواب نہیں ہے۔