اسلام آباد، کراچی ( نیوز رپورٹر، جنگ نیوز) پاکستان کا افغانستان کی جارحیت کے جواب میں کئی روز سے آپریشن غضب للحق جاری ہے، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت کارروائیوں میں افغان طالبان کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ جیو نیوز اور غیرملکی میڈیا کے مطابق اتوار کی شام کو اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ افغانستان بھر میں46مقامات کو فضائی کارروائیوں میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا اور یکم مارچ کو شام چار بجے تک افغان طالبان کے415اہلکار ہلاک جبکہ 580سے زیادہ زائد زخمی ہوئے ، انہوں نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی 182چیک پوسٹوں، 185 ٹینکوں اور مسلح گاڑیوں کو تباہ کرنے جبکہ31چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا۔ دوسری جانب افعانستان میں طالبان حکومت کی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ دو دن کے دوران انھوں نے پاکستان کے خلاف انتقامی اور شدید جارحانہ حملے کئے، جس کے نتیجے میں انہیں بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ تاہم آزادانہ ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ پاکستان نے جمعہ کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے۔ پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان نے کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جمعرات کی رات شروع ہوئی تھیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔