کراچی( ثاقب صغیر )پاکستان میں فروری 2026میں خودکش حملوں میں اچانک اضافے کے باعث جنگی ہلاکتوں میں30فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا فروری کے دوران پاکستان میں470افراد ہلاک اور333زخمی ہوئے۔ان470ہلاکتوں میں 80 سیکورٹی فورسز کے اہلکار، 294عسکریت پسند اور96 شہری شامل تھے جبکہ زخمیوں میں 50سیکورٹی اہلکار، 24عسکریت پسند اور 259شہری شامل تھے اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مطابق یہ اعداد و شمار سیکورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں74 فیصد اضافہ، عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں21 فیصد اور شہری ہلاکتوں میں 32فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فروری کے آغاز میں سیکورٹی فورسز کے جوابی آپریشن ’رَدُّ الفِتنہ-1‘ کے آغاز کے بعد بلوچستان میں عسکریت پسند حملوں میں واضح کمی دیکھی گئی۔ سیکورٹی فورسز کے آپریشنز کے دوران بلوچستان میں176عسکریت پسند ہلاک ہوئے تاہم خیبر پختونخوا اور اس کے ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) میں تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں 53 سیکورٹی اہلکار اور 6 شہری جاں بحق ہوئے۔اس کے علاوہ 35 سیکورٹی اہلکار اور 48 شہری بھی زخمی ہوئے۔خیبر پختونخوا میں تین خودکش حملے ہوئے جن میں 14 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 17 افراد ہلاک اور 20 شہری زخمی ہوئے۔خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی میں اضافے کے بعد پاکستان کے سرحد پار فضائی حملے اور اس کے نتیجے میں پاک-افغان فوجی جھڑپیں بھی ہوئیں۔فروری میں اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ایک خودکش دھماکے میں کم از کم 34 افراد ہلاک اور 165 زخمی ہوئے جبکہ پنجاب کے ضلع بھکر میں ہونے والے ایک اور خودکش دھماکے میں دو پولیس اہلکار جاں بحق اور چار زخمی ہوئے۔ملک بھر میں ماہ فروری میں کل پانچ خودکش حملے ہوئے جو جنوری 2026 کے مقابلے میں دو زیادہ تھے۔رپورٹ کے مطابق سال کے ابتدائی دو مہینوں میں کل آٹھ خودکش حملے ہوئے جو سال 2025 کے دوران ہونے والے کل 17 خودکش حملوں کا تقریباً نصف ہیں۔ یہ اعداد و شمار خودکش حملوں میں خطرناک اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔اسی دوران ایک ممکنہ خودکش حملہ آور کو سیکورٹی فورسز نے گرفتار بھی کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر سال 2026 کے پہلے دو ماہ میں 831 جنگی ہلاکتیں ہوئیں جن میں 169 شہری، 126 سیکورٹی اہلکار اور 536 عسکریت پسند شامل ہیں۔