اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)آبنائے ہرمز کا بحران: پاکستان کی بحیرہ احمر کے ذریعے سعودی تیل کی فراہمی پر نظر، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ تعطل 10 سے 12دنوں سے زیادہ برقرار رہتا ہے، تو پاکستان اس متبادل راستے کیلئے رجوع کریگا۔ تفصیلات کے مطابق خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر، پاکستان سعودی عرب کے ان ترجیحی ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کی کوشش کر سکتا ہے جنہیں بحیرہ احمر کے راستے خام تیل فراہم کیا جاتا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اگر (آبنائے ہرمز میں) یہ تعطل 10سے 12دنوں سے زیادہ برقرار رہتا ہے، تو پاکستان اس متبادل راستے کے لیے رجوع کرے گا۔ پاکستان اپنی توانائی کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ پاکستان قطر سے ایل این جی، کویت سے ڈیزل، اور خام تیل کی بڑی مقدار ’ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی‘ سے حاصل کرتا ہےاور یہ تمام سپلائی عام طور پر آبنائے ہرمز کے راستے ہی بھیجی جاتی ہے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ خام تیل کے دو ٹینکرز، جن میں ’پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن‘ کا جہاز ’ایم ٹی کراچی‘ بھی شامل ہے، اس وقت آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ایک اور کارگو جو لوڈنگ کے مرحلے پر تھا، موجودہ حالات میں روانہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ سمندری اور زمینی دونوں راستوں سے ایل پی جی کی درآمدات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جس سے ملک کے اندر قیمتوں میں شدید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ تاہم، ایل این جی کے دو کارگو، جو کشیدگی بڑھنے سے قبل آبنائے ہرمز عبور کر چکے تھے، آئندہ چند دنوں میں پاکستان پہنچنے کی توقع ہے، جس سے عارضی طور پر کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ اتوار کی صبح ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جو پیٹرولیم، تیل اور لبریکینٹس کے ذخائر کا جائزہ لینے کے لیے دو دنوں میں مسلسل دوسرا اجلاس تھا۔