• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی قیادت پر حملہ عالمِ اسلام پر حملے کے مترادف، تنظیماتِ اہلِسنّت پاکستان

لاہور(خبرنگار)تنظیماتِ اہلِسنّت پاکستان کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا ہنگامی اجلاس مرکزی امیر تنظیماتِ اہلِسنّت پاکستان اور سابق وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی کی صدارت میں جامع انوار العلوم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز، پاک افغان سرحدی کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ اور ایران کی سنگین صورتحال سمیت دیگر اہم قومی و بین الاقوامی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا. اجلاس میں مرکزی جماعتِ اہلِ سنت پاکستان کے سربراہ پیر میاں عبدالخالق القادری، جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابو الخیر ڈاکٹر محمد زبیر الوری،سابق ممبر قومی اسمبلی میاں جلیل احمد شرقپوری سمیت اہلسنت جماعتوں کے سربراہان، خانقاہوں،وفاقوں اور اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ تنظیماتِ اہلِسنّت پاکستان ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے اور 6مارچ 2026بروز جمعۃ المبارک کو یومِ سوگ منانے کا اعلان کرتی ہے۔عالمِ اسلام ایک اہم رہنما سے محروم ہو گیا ہے، ان کی خدمات دیر تک یاد رکھی جائیں گئیں۔ ایرانی قیادت پر حملہ درحقیقت عالمِ اسلام پر حملے کے مترادف ہے۔اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن “غضب للحق” کی مکمل تائید و حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلح افواجِ پاکستان کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملکی استحکام و سلامتی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دراندازی اور حملے قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت ہیں۔ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور اس کی جغرافیائی سالمیت پر کسی بھی قسم کی جارحیت پوری قوم کے خلاف اقدام تصور کی جائے گی۔حکومتِ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے، پاک افغان کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مسلم ممالک کے خلاف اقدامات کے تناظر میں فوری طور پر قومی کانفرنس بلائی جائے تاکہ متفقہ قومی لائحۂ عمل طے کیا جا سکے۔
لاہور سے مزید