ولاہور (آصف محمود بٹ ) پاکستان سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) لاہور میں جاری جدید اور شمولیتی اصلاحات کے نتیجے میں بصارت سے محروم فارن سروس آف پاکستان کے افسر سید ایرل حسین 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) میں ایک نمایاں، باصلاحیت اور قابلِ تقلید مثال کے طور پر ابھرے ہیں۔ صائمہ سلیم سے متاثر ہوکر خواب کو حقیقت میں ڈھال د معذور افسران کیلئے نئی راہیں ہموار ہوئی ، سید ایرل حسین نے اپنی جدوجہد اور کامیابی کے حوالے سے کہا کہ معذوری دراصل کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ زندگی کو مختلف زاویے سے دیکھنے کا ایک انداز ہے 1998میں کراچی میں پیدا ہونے والے سید ایرل حسین پیدائشی طور پر ریٹینائٹس پگمنٹوسا (RP) جیسے عارضے کا شکار ہیں، جو وقت کے ساتھ بصارت کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس چیلنج کو اپنی کمزوری کے بجائے طاقت میں بدل دیا۔ ڈائریکٹر جنرل سی ایس اے فرحان عزیز خواجہ نے کا کہنا ہے کہ کراچی میں پیدا ایرل حسین کی کہانی فرد کی کامیابی نہیں بلکہ ایک سوچ ہے"جنگ" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سید ایرل حسین نے اپنی جدوجہد اور کامیابی کے حوالے سے کہا کہ اگر انسان مستقل مزاجی، صبر اور درست رہنمائی کے ساتھ آگے بڑھے تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں رہتا۔ ۔ فرحان عزیز خواجہ نے بتایا کہ اکیڈمی ہر افسر کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے ڈی جی سول سروسز اکیڈمی کے مطابق سید ایرل حسین جیسے افسران ملک کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں۔ جنہیں ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ مستقبل میں بہترین انداز میں قومی خدمات انجام دے سکیں۔سید ایرل حسین نے اپنی تعلیمی بنیاد 2005 میں آئیڈا ریو بلائنڈ اسکول سے رکھی، جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 2014 میں میٹرک مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مرکزی دھارے میں تعلیم جاری رکھتے ہوئے سینٹ پیٹرک کالج میں داخلہ لیا اور 2017 میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ انہوں نے جامعہ کراچی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں بیچلرز ڈگری حاصل کی، جہاں ان کی دلچسپی عالمی سیاست، سفارتکاری اور قومی مفادات کے تحفظ جیسے موضوعات میں مزید گہری ہوئی۔ان کی زندگی میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب وہ فارن سروس آف پاکستان کی افسر صائمہ سلیم سے متاثر ہوئے جو خود بصارت سے محروم ہونے کے باوجود سی ایس ایس امتحان میں کامیابی حاصل کرکے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔ صائمہ سلیم کی کامیابی نے سید ایرل حسین کے لیے ایک نئی راہ متعین کی اور انہیں یہ یقین دلایا کہ معذوری کے باوجود بھی عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کی جا سکتی ہے۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے سی ایس ایس امتحان کی تیاری کا آغاز کیا۔سی ایس ایس جیسے مشکل اور مسابقتی امتحان میں کامیابی ان کے لیے آسان نہ تھی۔ پہلی کوشش میں ناکامی کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری، اپنی حکمت عملی کا ازسرِنو جائزہ لیا، رہنمائی حاصل کی اور مستقل مزاجی کے ساتھ دوبارہ تیاری کی۔ بالآخر دوسری کوشش میں انہوں نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے فارن سروس آف پاکستان میں نمایاں مقام حاصل کیا اور 54ویں سی ٹی پی کا حصہ بن گئے۔ وہ اپنی کامیابی کو مسلسل محنت، درست رہنمائی اور بتدریج پیش رفت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔