• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بحران: ریاض امیروں کے انخلا کا مرکزی راستہ بن گیا

کراچی (رفیق مانگٹ) مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بحران، ریاض امیروں کے انخلا کا مرکزی راستہ بن گیا، ریاض سے یورپ نجی طیارہ اخراجات 9کروڑ 80 لاکھ روپے، دبئی سے ریاض 10 گھنٹے صحرائی سفر، لگژری ایس یو ویز قافلے روانہ، ریاض کا کنگ خالد ایئرپورٹ بحران میں فعال، اہم فضائی راہداری، دبئی و ابوظہبی میں خوف و ہراس، امیروں کی نقل مکانی شروع، سعودی ویزا قوانین نرم، ریاض کاروباری و خاندانی انخلا کا ترجیحی راستہ، خطے میں 6 ہزار پروازیں منسوخ، 30 ہزار تاخیر کا شکار ہوئی ہیں۔ ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے سے دبئی اور ابوظہبی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جس کے نتیجے میں سعودی دارالحکومت ریاض امیر ترین افراد کے انخلا کا اہم مرکز بن گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات، اسرائیل، قطر، بحرین، کویت اور عمان کی فضائی حدود شدید متاثر ہوئیں، جس سے تقریباً 6 ہزار پروازیں منسوخ اور 30 ہزار تاخیر کا شکار ہوئیں۔ اس صورتحال میں ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل اییرپورٹ خطے کے چند فعال ہوائی اڈوں میں شامل رہا۔

اہم خبریں سے مزید