• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں غیر تربیت یافتہ سیکورٹی گارڈز شہریوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ بن گئے

کراچی (ثاقب صغیر )کراچی میں غیر تربیت یافتہ سیکیورٹی گارڈز شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔نارتھ ناظم آباد میں گزشتہ دنوں سیکورٹی گارڈ کی فائرنگ سے نوجوان ولید کی ہلاکت نے ناقص سیکیورٹی کمپنیوں پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔واقعہ کے بعد پولیس نے ناقص سیکیورٹی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کروانے کی تیاری کر لی ہے۔ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے مطابق جس کمپنی کے گارڈ نے نوجوان کو قتل کیا اسکو بلیک لسٹ کرنے کے لیے خط لکھا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ سیکریٹری داخلہ ،آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف کو بھی خط لکھ رہے ہیں کہ شہر میں موجود تمام پرائیوٹ سیکیورٹی کمپنوں کی جانچ پڑتال کی جائے۔ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے بتایا کہ ڈسٹرک ویسٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ کے تین واقعات ہو چکے ہیں۔گاڈرز کی فائرنگ سے تین افراد جان سے جا چکے ہیں۔شہر میں متعدد نجی سیکیورٹی کمپنیاں تربیتی معیار پر پورا اترنے میں ناکام ہیں۔سیکیورٹی کمپنیوں کے پاس تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے۔بیشتر گارڈز بنیادی اسلحہ سنبھالنے، ہنگامی صورتحال یا ہجوم کنٹرول کی تربیت سے ناواقف ہیں۔لائسنس یافتہ ہونے کے باوجود اکثر کمپنیاں سندھ پولیس یا سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے قواعد پر عمل نہیں کرتیں۔کمپنیوں کی جانب سے سیکورٹی گارڈز کو باقاعدہ تربیتی مراکز کے بجائے ’’ان ہاؤس‘‘ یا غیر سرکاری تربیت دی جاتی ہے۔ان غیر تربیت یافتہ سیکورٹی گارڈز کی جانب سے ہتھیاروں کے غلط استعمال سے حادثاتی فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔خوف یا تربیت میں کمی کے باعث چوری، ڈکیتی یا دہشت گردی کی صورت میں یہ گارڈز نہ صرف کوئی بھی مؤثر ردعمل دینے میں ناکام نظر آتے ہیں بلکہ اسکولوں، بینکوں، شاپنگ مالز اور اسپتالوں میں تعینات یہ گارڈز عوامی سلامتی کو براہ راست خطرے میں ڈال رہے ہیں۔متعلقہ اداروں کی جانب سے نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے لائسنس اور تربیتی ریکارڈ کی باقاعدہ جانچ نہیں کی جاتی اور نہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والے گارڈز کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ضروری ہے کہ ان گارڈز کی تربیت، نفسیاتی جانچ اور بیک گراؤنڈ ویریفکیشن کو لازمی قرار دیا جائے۔متعلقہ اداروں کے درمیان کوآرڈی نیشن کا مضبوط نظام قائم کیا جائے۔حکومت کی سطح پر کم از کم تربیتی معیار (Minimum Training Standard) مقرر کیا جائے۔ہر گارڈ کے لیے تربیتی سرٹیفکیٹ اور لائسنس نمبر ظاہر کرنا لازم ہو۔نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے لیے ریگولر آڈٹ اور ریویو سسٹم ہو۔شہریوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ جان سکیں ان کے اطراف میں تعینات گارڈز کی تربیت کس سطح کی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر تربیت یافتہ سیکورٹی گارڈز خود بھی خطرے میں ہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔سیکورٹی کے نام پر غیر تربیت یافتہ افراد کو اسلحہ دینا ،دھماکہ خیز صورتحال پیدا کرنے کے مترادف ہے۔
اہم خبریں سے مزید