اسلام آباد (خبر نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلاق کے بعد جہیز کا سامان واپس نہ کرنے سے متعلق خاتون کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ سوال تو یہ ہو گا کہ ورکنگ ویمن نے اپنی اشیاء خود خریدی ہیں، ماں باپ اگر جہیز کی جگہ پیسے دے دیں تو جہیز ہی کہلائے گا۔ عدالت نے وکیل کی عدم حاضری پر درخواست گزار خاتون سے استفسار کیا کہ آپ کہیں ملازمت کرتی ہیں؟ سائلہ نے بتایا کہ پہلے ائیر فورس میں ملازمت کرتی تھی۔ خاتون نے کہا کہ اس نے جہیز کا سامان اپنی آمدنی سے خریدا تھا،سابقہ شوہر نے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تو گھر چھوڑ کر علیحدہ ہو گئی تو شوہر سامان اٹھانے نہیں دے رہے تھے، سامان کے مجھے پیسے بھی نہیں دئیے ۔