کراچی ( طاہر عزیز۔۔۔اسٹاف رپورٹر)13 ارب روپے کی لاگت سے بنائی گئی حب کینال سے کراچی کو پانی کا پورا کوٹہ تاحال سپلائی نہ ہو سکا گزشتہ سال نئی نہر مکمل ہونے کے بعد اس کا افتتاح13 اگست کو چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کیا تھا اس وقت کراچی واٹر کارپوریشن حکام کا دعویٰ تھا کہ نئی نہر کے بعد حب ڈیم سے اس کا پورا کوٹہ 100ایم جی ڈی حاصل کر سکیں گے اور پانی کی شدید قلت والے ضلع غربی ،بلدیہ،سائٹ،اورنگی اور وسطی کے بعض علاقوں میں کمی پر کافی حد تک قابو پا لیا جائے گا لیکن اب تک صورتحال میں کوئی بہتری نہیں ہو سکی ہے نئی نہر سے بمشکل 60سے65ایم جی ڈی پانی کراچی کو فراہم کیا جا رہا ہےجبکہ پرانی نہر سے بھی اتنا ہی پانی سپلائی ہوتا تھااس طرح حکومت سندھ جس نےاپنے چیئرمین کی ہدایت پرمنصوبے کے لئےنہ صرف کثیر رقم فراہم کی بلکہ اسے ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ذرائع نے بتایا کہ واٹر کارپوریشن جس نےنئی نہر کو واپڈا کی نہر سے کنیکٹ کرنا تھااب تک گیٹ نہیں لگایا جاسکا جس کی وجہ سےپہلے پانی پرانی نہر اور پھر وہاں سے نئی نہر میںمنتقل ہوتا ہےپانی کا روٹ 90ڈگری تبدیل ہونے سے اس کی ولاسٹی میں فرق پڑتا ہےاس کے علاوہ حب ڈیم سے9کلومیٹر نہر جو واپڈا کے زیر انتظام ہےاس میں لیکج،جھاڑیاںاورمٹی جمع ہونے کے باعث بھی پانی پوری طرح سپلائی نہیں ہو پاتاواٹر کارپوریشن ذرائع کا کہنا ہےواپڈا کی نہر سےنئی نہر کو ملانے اور گیٹ لگانے کےلئے کم ازکم سات روز تک نہر میںپانی کی سپلائی بند کرنا ہوگی اور اب یہ رمضان کے بعد ممکن ہو سکے گا۔