• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگوں میں بیدخلی ہوتی ہے، پھر معاملات ٹھیک ہو جاتے ہیں، ماہر امور مشرق وسطیٰ

چکوال( جنگ نیوز) ایک بین الاقوامی  ماہر امور مشرق وسطی نے کہا ہے جنگوں میں بیدخلی ہوتی ہے، پھر معاملات ٹھیک ہو جاتے ہیں وہ جنگ اور دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے  ہیومن رائٹس واچ کی خلیجی ملک سے پاکستانیوں کی بیدخلی کی تحقیقات پر رائٹرز کی رپورٹ پر ردعمل دے رہے تھے انہوں نے کہا کہ  دو خلیجی ممالک کی چپقلش میں اہل تشیع افراد کو بیدخل ہونا پڑا۔چکوال کے ایک گاوں سے 100سے زائد  اہل تشیعہ ایک خلیجی ملک سے واپس بھیجے گئے ہیں، ان سے نوکریا ں بھی لے لی گئیں،سامان بھی اور وہ بچت بھی جو انہوں نے بیروں ملک کئی سال کام کرکے جمع کی تھی،ایران جنگ کے دوران اسے ہی ہزاروں افراد  خفیہ طور پر واپس بھیجے گیے جس سےپاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور  اہل تشیع برادری اور ہیومن رائٹس واچ  سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا،ایک نیوز ایجنسی نے ان 103 پاکستانیوں کی دستاویزات کا جائزہ لیا جنہوں نے کہا کہ انہیں ملک بدر کیا گیا ہے اور ان کا تعلق اہل تشیع برادری سے ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے تیار کردہ ایک ڈیٹا بیس میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تھےسے اب تک خلیجی ریاست سے ملک بدر کیے جانے والے 7,500 پاکستانیوں کی فہرست دی گئی ہے۔ گروپ کے ترجمان محسن عابدی نے کہا کہ اصل تعداد ممکنہ طور پر اس سے کہیں زیادہ ہے۔پاکستان کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خلیجی ملک نے فرقے کی بنیاد پر کسی کو ملک بدر نہیں کیا، اور ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک بدری اس ملک کے قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہوئی ہے۔،ہیومن رائٹس واچ کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر، مائیکل پیج نے کہا کہ ملک بدری کی رپورٹیں انتہائی تشویشناک ہیں اور  ہم ان سنگین الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں بغیر وضاحت کے اچانک ملک بدر کیا گیا، جس سے ان کی روزگار اور مالی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہےخبر  رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک خلیجی عرب ملک سے مبینہ طور پر درجنوں سے لے کر ہزاروں پاکستانیوں کو ملک بدر کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں زیادہ تر افراد شیعہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اچانک حراست میں لے کر بغیر واضح وجہ کے واپس پاکستان بھیج دیا گیا، جبکہ ان کے سامان اور جمع پونجی تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔ بعض افراد نے الزام لگایا کہ انہیں روزگار یا ویزا کی تبدیلی کے دوران حراست میں لیا گیا۔
اہم خبریں سے مزید