برطانوی وزیر اعظم سر کئیر اسٹارمر نے جنگ کی صورت حال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے مزید چار برطانوی لڑاکا طیارے ٹائفون قطر بھیجنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ تمام شہریوں کے بحفاظت واپس آنے تک اپنی پوری کوششیں جاری رکھیں گے۔
جمعرات کی سہ پہر ڈاؤئنگ اسٹریٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اینٹی ڈرونز صلاحیتوں کے حامل وائلڈ کیٹ ہیلی کاپٹر بھی کل قبرص پہنچ جائیں گے، انھوں نے کہا آج صبح ہی تازہ صورت حال پر غور کیلئے کوبرا میٹنگ بھی طلب کی گئی تھی۔
وزیر اعظم سر کئیر اسٹارمر نے کہا کہ جانتا ہوں لوگ خلیجی ممالک میں پھنسے اپنے عزیزوں کے حوالے سے پریشان ہیں، اپنے لوگوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
انھوں نے کہا کہ برطانیہ کا طویل عرصہ سے موقف ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات بات چیت کے ساتھ حل کیے جائیں، اسی لیے برطانیہ ایران پر ابتدائی حملوں کا حصہ نہیں بنا، لیکن اب ایران نے خطے کے دیگر ممالک پر حملے شروع کیے تو صورت حال بدل گئی۔
انکا کہنا تھا کہ اپنے لوگوں کے دفاع اور مفادات کے تحفظ کیلئے ایران پر حملے سے پہلے ہی اپنے دفاعی اثاثے خطے میں منتقل کر دیے تھے، جنوری اور فروری میں دفاعی اثاثے قبرص اور قطر منتقل کر دیے تھے۔
سر کئیر اسٹارمر نے کہا گزشتہ ہفتہ کو ایران پر جب حملے شروع ہوئے تو برطانوی جیٹس فضا میں تھے، جنہوں نے برطانوی فوجیوں کی رہائش گاہوں کی طرف جاتے ڈرونز مار گرائے۔
انھوں نے کہا کہ برطانوی شہریوں کو لانے والی حکومتی چارٹرڈ پرواز اڑان بھر چکی ہے، چار ہزار برطانوی دیگر پروازوں سے واپس برطانیہ پہنچ چکے ہیں، اب بھی ایک بہت بڑی تعداد خلیجی ممالک میں پھنسی ہوئی ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا جب تک تمام شہری بحفاظت واپس نہ آجائیں حکومت اپنی پوری کوششیں جاری رکھے گی، آنے والے دنوں میں مزید چارٹرڈ پروازیں بھی چلائی جائیں گی۔