• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین !یہ وقت پاکستانی قوم کیلئے ایک نازک امتحان ہے جب افغان طالبان رجیم نے، بھارت اور اسرائیل کی شہ پر پاکستان پر پہلے دہشتگردی مسلط کی اور اب دہشتگردوں کی حمایت میں جنگ مسلط کرنے کی مذموم کوشش کی۔ یہ کوششیں ناکام ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں دیں گی، کیونکہ پاکستانی فوج، عوام اور قیادت نے مادر وطن کے دفاع میں کوئی رعایت نہیں برتی اور نہ ہی برتیں گے۔بھارت اور اسرائیل دونوں افغانیوں کو پاکستان سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حالانکہ پاکستان نے افغانوںکو ہمیشہ اپنا بھائی سمجھ کر ان کی دامےدرمےسخنے مدد کی اور برسہا برس کی ہے۔اگرچہ اس سے پاکستان کا نظام بہت بگڑا بھی یہاں اسلحہ،منشیات،سود،سودی کاروبار یہ سب پھیلا مگر پاکستان نے پھر بھی اپنا وعدہ نبھایا ۔ افغانستان کے باشعور طبقات،حتیٰ کہ طالبان کے اندر موجود کچھ معتدل اور انصاف پسند عناصر بھی جانتے ہیں کہ پاکستان نے نصف صدی سے زائد عرصے تک افغان بھائیوں کی میزبانی کی، لاکھوں افغانوں کو پناہ دی، ان کے بچوں کو تعلیم دی، وسائل بانٹے اور ان کی آزادی کی جنگوں میں اپنا خون بہایا۔ ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کی قبریں آج بھی افغان سرزمین پر موجود ہیں، جو افغانستان کی آزادی کیلئے شہید ہوئے۔ یہ قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں اور انہیں کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ المیہ یہ ہے کہ موجودہ طالبان رجیم، بھارت کے ایما پر اور اس کی غلامی میں، اپنے ہی محسنوں کا خون بہانے پر تلا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف تاریخی بے وفائی بلکہ اسلامی بھائی چارے کی کھلی تو ہین بھی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے پچھلے 5سال سے مسلسل صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا، بات چیت کے دروازے کھلے رکھے، مذاکرات کی متعدد کوششیں کیں،حتی ٰکہ افغان طالبان کی جانب سے سرحدی جارحیت سے محض 2 روز قبل بھی پاکستان مذاکرات کیلئے رابطے میں تھا اور امن کی راہ تلاش کر رہا تھا۔ یہ پاکستان کی امن پسندی اور ذمہ داری کا ثبوت ہے کہ وہ جنگ نہیں بلکہ پڑوسی ملک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ طالبان رجیم کے اندر موجود انصاف پسند اور معتدل ذمہ داران اپنا کردار ادا کریں۔ انہیں ہیبت اللہ اخوند زادہ کی قیادت میں بھارت کی غلامی اور بیرونی ایجنڈوں سے نکلنے کی کو شش کرنی چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو پاکستان کو دہشتگردی اور ان کی جارحیت کو ہینڈل کرنے کا مکمل حق ہے۔ ہمارےصبرکاپیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اور اب اگر یہ کشیدگی ایک مکمل بڑی جنگ میں تبدیل ہوگئی تو افغان طالبان کو کہیںپناہ نہیں ملے گی نہ پاکستان کی سرزمین پر نہ کسی اور جگہ اور اس کی ذمہ داری ان پر ہی عائد ہوگی۔ پاکستان کی قیادت واضح کر چکی ہے کہ دفاع پر کوئی سمجھو تہ نہیں۔ اگر طالبان رجیم نے ہوش نہیں کیا تو پاکستان اپنے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ یہ جنگ پاکستان نے شروع نہیں کی، بلکہ ایک بیرونی ایجنڈے کی ہے اور اسے ناکام بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

یہاں میں اپنے افغانستان کے دوستوں سے چند سوالات کرتا ہوں۔ بجائے جذباتی ہونے کے عقل و شعور سے جواب دیجئے گا۔پہلا سوال پاکستان معرض وجود میں آیا افغانستان نے پاکستان کو تسلیم کیوں نہیں کیا جبکہ پوری دنیا نے پاکستان کو تسلیم کرلیا تھا۔؟دوسرا 1947-48 میں افغانستان نے پاکستان کے بارڈر پر کیوں حملہ کئے؟تیسرا 1956 افغانستان نے پشتونستان تحریک کے غنڈوں کے ذریعہ پاکستان پر کیوں حملہ کیا؟ چوتھا 1955 پر کابل میں پاکستان کے سفارتخانہ پر کیوں حملہ کیا؟پانچواں 1961 میں پاکستان سے سفارتی تعلقات کیوں ختم کئے؟چھٹا 1970میں باجوڑ اور مہمند چترال کی پہاڑیوں پر سرخوں کے ساتھ ملکر دائود جو بعد میں صدر بنا کیوں حملہ کیا؟ساتواں 1973میں پاکستان کی سرحد پر دوبارہ دائوو نے کیوں حملہ کیا؟آٹھواں 1979سویت یونین کو کیوں بلایا ؟ اور 2001 میںنائن الیون کے حملوں کے مجرموں کو پناہ دے کر امریکہ کو حملے کا جواز کس نے دیا؟

ہمارا خطہ اس وقت آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھا ہے اور مسلم دنیا کے خلاف بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ نے اپنے شیطانی ایجنڈے کے تحت مشرقِ وسطیٰ اور برصغیر میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ غزہ پٹی آج بھی اسرائیلی بربریت کے نشانے پر ہے جبکہ امریکہ کی کمک اور اشیرباد کے ساتھ اسرائیل ایران میں رجیم چینج کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ اسی طرح نریندر مودی کے دورہ اسرائیل سے واپسی کے ساتھ ہی طالبان رجیم کو پاکستان پر حملے کی راہ پر لگا دیا گیا ۔ پاکستان کے مضبوط دفاعی حصار کے باعث ان حملوں میں طالبان رجیم پاکستان کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکی مگر پاکستان کے بھرپور جوابی وار کے نتیجےمیں افغان رجیم کا اپنا انجر پنجر ضرور ہل گیا ہے اور اب وہ جنگ بندی کیلئے پاکستان کے دوستوں کی منت سماجت کر رہی ہے۔ طوطا چشم افغان طالبان نے محض پیسوں کی خاطر ضمیر بیچ کر جس طرح بھارتی پراکسی کا کردار ادا کرتے ہوئے اس پورے خطہ کا امن و سلامتی داؤپر لگائی ہے اور پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کیا ہے، اس کیلئے معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ملک کی مسلح افواج اسی تناظر میں آپریشن غضب للحق کے ذریعے افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے ہر ٹھکانے کو نیست و نابود کرنے کے عزم پر کامیابی کے ساتھ عمل پیرا ہیں جو انکے سرپرست و سہولت کار بھارت کیلئے بھی ایک سبق ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی پر وار کرنے کی دوبارہ جرات نہ کرے۔ ہنود و یہود و نصاریٰ کے جارحانہ، توسیع پسندانہ عزائم آج اتحادِ امت کے متقاضی ہیں اور اس تناظر میں قومی اتحاد ویکجہتی کے ساتھ ہمیں اپنی جری و بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر دفاع وطن کا فریضہ ادا کرنا ہے۔ کسی کے سیاسی ایجنڈے کو ملک کی سلامتی پر بہرحال ترجیح نہیں دی جا سکتی۔

تازہ ترین