پشاور (ارشد عزیز ملک )وفاقی حکومت کی فنڈنگ کے باوجود، ضم شدہ اضلاع کیلئے سولرائزیشن پروجیکٹ میں دو سالہ تاخیر نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تقریباً 130,000گھرانے اب بھی انتظار کر رہے ہیں، جو حکومت کی بدانتظامی اور سست روی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔وفاقی حکومت نے ضم شدہ اضلاع میں 130,000 گھروں کو سولر سسٹمز فراہم کرنے کے لیے تقریباً 13.32 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی اور فنڈز صوبائی حکومت کو منتقل کیے پی سی ون ابھی تک منظور نہیں وزیر اعلیٰ سہیل افریدی نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کا جلد افتتاح کیا جائے گا جون تک تمام گھروں کو سولر سسٹم دے دیں گے۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس منصوبے کے تحت 93 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جو سالانہ تقریباً 172,852,392 کلواٹ گھنٹے پیدا کرے گا اور ہزاروں گھرانوں کو سستی توانائی فراہم کرے گا۔، 12 جون 2024 کو وزیر خزانہ کی سربراہی میں منصوبے کی نگرانی کے لیے کمیٹی قائم کی گئی۔ 14 اگست 2024 کو سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے منصوبے کا باضابطہ اعلان اور افتتاح کیا۔ بعد ازاں، 20 ستمبر 2024 کو تکنیکی کمیٹی قائم کی گئی، اور 25ستمبر 2024 کو بینک آف خیبر نے صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے 20 ارب روپے کی منظوری دی۔