• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

توانائی بچت، 14 نکاتی اقدامات، ہفتے میں 4 دن کام، 2 ہفتوں کیلئے اسکولز بند

اسلام آباد (رانا غلام قادر) و زیر اعظم محمد شہباز شریف نے ایران، مشرق وسطٰی اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورتحال کے پیش نظر معیشت کے استحکام کیلئے کفایت شعاری، عوامی ریلیف، سادگی اور توانائی کی بچت کیلئے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اشرافیہ کیلئے مراعات کو محدود کرتے ہوئے سرکاری اخراجات میں کمی و بچت کی جا ئیگی ۔ پیر کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے خطے کو درپیش صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لیا اور حکومتی فیصلوں کا اعلان کیا جن میں دو ماہ کیلئے سرکاری گاڑیوں کے پٹرول کی مد میں 50 فیصد فی الفور کٹوتی، سرکاری گاڑیوں کل استعمال 60فیصد بند، کابینہ ارکان، وزراء، مشیران، معاونین خصوصی آئندہ دوماہ تنخواہیں نہیں لینگے، ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی، گریڈ 20سے اوپر کے افسران جنکی تنخواہ تین لاکھ سے زائد ہے کہ دو دن کی تنخواہ کی کٹوتی، سرکاری محکموں کے اخراجات میں 20 فیصد کمی، ملکی مفاد کیلئے ناگزیر وجہ کے سوا وزیراعظم، گورنرز، وزراء اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران کے بیرونی دوروں پر پابندی، سرکاری تقاریب پر اخراجات کم کرنے کیلئے سیمینار، کانفرنسز ہوٹل کی بجائے سرکاری مقامات پر کرنے، 50فیصد اسٹاف کے ورک فرام ہوم، سرکاری دفاتر پانچ کی بجائے چار دن کام، ایک دن کی اضافی چھٹی کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا،اسکولوں میں دو ہفتے کی تعطیلات، اعلیٰ تعلیم کیلئے آن لائن کلاسز، سرکاری عشایئے، افطار پارٹیوں پر مکمل پابندی،اعلی تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز لینے، سرکاری دفاتر کیلئے فرنیچر، اے سی وغیرہ خریدنے پر مکمل پابندی سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔ فوری طور پر تمام اسکولوں کو رواں ہفتے کے آخر سے دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جا رہی ہیں اور ہائر ایجوکیشن کے تمام اداروں میں فوری طور پر آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج میں خطے کو در پیش ایک نہایت سنجیدہ اور پر خطر صورتحال کے بارے میں قوم سے مخاطب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے پورا خطہ، بشمول ایران اور مشرق وسطیٰ اس وقت ایک شدید جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہیں۔ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کیلئے گہری تشویش کا باعث ہیں۔خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدیدخطرات لاحق ہیں، پاکستان اس کشیدہ صورتحال میں حتی المقدور کوشش کر رہا ہے کہ معاملات تدبر اور سفارت کاری کے ذریعے حل ہوں۔ صورتحال دیکھتے ہوئے مشکل فیصلے کیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ مشکل اور دل پر پتھر رکھ کر کیا، دماغ کہتا تھا کہ تیل کی قیمت میں اضافے کے سوا آپشن نہیں لیکن دل کہتا تھا کہ کہیں تیل کی قیمت میں اضافے سے غریب عوام پر بوجھ نہ بڑھے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنی مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کا سامنا ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی جانب سے ہونے والی دراندازی اور حملوں کے جواب میں ہماری جری افواج وطن عزیز کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کا مقدس فریضہ انتہائی جانفشانی کے ساتھ ادا کر رہی ہیں، جس پر میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایران میں ہونے والے اسرائیلی بہیمانہ حملوں کے نتیجے میں آیت اللّٰہ سید علی خامنائی، اُنکے اہلِ خانہ اور معصوم ایرانی بھائیوں اور بہنوں کی شہادت پر حکومت پاکستان اور عوام نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ہم ان حملوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان اپنے برادر مسلم ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، اردن، لبنان، عمان، ترکیہ اور آذربائیجان پر ہونے والے حملوں کی بھی شدید مذمت اور جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید