امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نہایت پیچیدہ اور حساس ہو گئی ہے ۔ ان حالات میں مسلمانوں کے اندر سب سے بڑی تشویش یہی رہی ہے کہ کہیں یہ کشیدگی مسلمان ممالک کے درمیان باہمی تصادم میں تبدیل نہ ہو جائے۔ بلاشبہ ایسا تصادم امریکا اور اسرائیل کیلئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ انکی پالیسی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ مسلم دنیا کو اندرونی تنازعات میں الجھا دیا جائے۔ تاہم شکر ہے اب تک ایسا نہیں ہوا اور اس کا کریڈٹ بڑی حد تک عرب ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کی محتاط اور ذمہ دارانہ پالیسی کو جاتا ہے۔ اگرچہ ایران کے جوابی حملوں سے خطے کے عرب ممالک متاثر ہو رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود عمومی طور پر ان ممالک نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے۔خاص طورپر سعودی عرب کا کردار اس پورے معاملے میں انتہائی اہم اور قابلِ توجہ رہا ہے۔ سعودی قیادت نے اس بحران کو نہایت سنجیدگی اور حکمت کے ساتھ سمجھتے ہوئے غیر ضروری ردعمل سے گریز کیا اور تحمل و برداشت کا راستہ اختیار کیا۔ ایک طرف سعودی عرب مسلسل عرب ممالک سے رابطے میں رہا تاکہ غیر ضروری کشیدگی کو روکا جا سکے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی سفارتی رابطے برقرار رکھے گئے تاکہ صورتحال کو آپس میں جنگ کی طرف جانے سے روکا جا سکے۔ یہ صورتحال پاکستان کیلئے بھی خاصی پیچیدہ ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران کا ہمسایہ مسلمان ملک ہے اور ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملوں کی مذمت کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کا ایک اہم معاہدہ بھی موجود ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگر سعودی عرب پر حملہ ہوا تو پاکستان اسے اپنے اوپر حملہ تصور کرے گا۔ چنانچہ اگر خطے میں کشیدگی اس نہج تک پہنچ جاتی کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست تصادم ہو جاتا تو پاکستان کیلئے یہ صورتحال انتہائی مشکل بن سکتی تھی- اسی تناظر میں پاکستان نے بڑی فعال سفارتی حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کیا تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے موقف کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق انہوں نے ایرانی قیادت سے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے حوالے سے کھل کر بات کی۔ اس بات چیت کے بعد ایران کی جانب سے سعودی عرب کے حوالے سے خاصی احتیاط دیکھنے میں آئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان کی کوششیں مؤثر ثابت ہوئیں۔ سعودی عرب نے بھی اس معاملے میں غیر معمولی حکمت کا مظاہرہ کیا۔ امریکا کے ممکنہ دباؤ یا کسی فوری ردعمل کے بجائے سعودی قیادت نے صبر اور تحمل کی پالیسی اختیار کی۔ سعودی عرب نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ یہ فیصلہ نہ صرف خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کیلئے اہم تھا بلکہ اس سے یہ پیغام بھی گیا کہ سعودی عرب مسلمان ممالک کے درمیان لڑائی نہیں چاہتا اور کسی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے استحکام کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔ اگرچہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات، بحرین، عراق اور قطر میں موجود امریکی اڈوں یا اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں، لیکن سعودی عرب کے متعلق ایران بھی کافی محتاط نظر آ رہا ہے جو اچھی بات ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پاکستان کی پالیسی بھی اسی پیچیدہ صورتحال کے تناظر میں متوازن دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران پر حملوں کی مذمت کر رہا ہے کیونکہ یہ ایک خودمختار مسلمان ملک جو پاکستان کا ہمسایہ بھی ہے اور جس سے پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں ، کے خلاف کارروائی ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے جوابی حملوں سے متاثر ہونے والے عرب ممالک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کر رہا ہے۔ بظاہر بعض لوگوں کو یہ پالیسی متضاد محسوس ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک نہایت محتاط اور دانشمندانہ سفارتی حکمت عملی ہے جسکا مقصد کسی بھی صورت میں مسلمان ممالک کو باہمی جنگ سے بچانا ہے۔ ترکی کی پالیسی بھی اسی نوعیت کی ہے۔ ترکی نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی مذمت کی ہے، لیکن ساتھ ہی وہ ایران کے جوابی حملوں سے متاثر ہونے والے عرب ممالک کے ساتھ بھی اظہارِ یکجہتی کر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے اہم مسلم ممالک اس وقت بنیادی طور پر ایک ہی مقصد کو سامنے رکھے ہوئے ہیں اور وہ ہے مسلم دنیا کو باہمی تصادم سے بچانا۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر بعض عناصر اس صورتحال کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ بھگوڑے یوٹیوبرز یہ تاثر دے رہے ہیں کہ سعودی عرب پاکستان سے ناراض ہے یا سعودی قیادت پاکستان سے یہ توقع کر رہی ہے کہ وہ دفاعی معاہدے کے تحت ایران کے خلاف کھل کر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔ تاہم میری اطلاعات کے مطابق یہ تاثر حقیقت سے بالکل مختلف ہے۔ سعودی عرب نے نہ تو پاکستان سے کوئی ایسا مطالبہ کیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کا دباؤ ڈالا ہے۔ درحقیقت سعودی قیادت خود یہ چاہتی ہے کہ مسلمان ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی جنگ سے بچا جائے۔ موجودہ حالات میں سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ مسلم ممالک جذبات کے بجائے حکمت اور تدبر سے کام لیں۔اگر مسلم دنیا اسی دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تو نہ صرف ایک بڑی جنگ کو روکا جا سکتا ہے بلکہ بیرونی قوتوں کی اس خواہش کو بھی ناکام بنایا جا سکتا ہے جو مسلمانوں کو آپس میں لڑتا دیکھنا چاہتی ہیں۔