اسلام آباد( تنویر ہاشمی )آئی ایم ایف اور پاکستان کے مابین 7ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تیسرے جائزہ مذاکرات کے بعد اسٹاف سطح کا معاہدہ نہ ہوسکا ، پاکستان نے اصلاحاتی ایجنڈے پر اچھا کام کیا، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات پر بھی پیشرفت، پروگرام پر عملدرآمد وعدوں کے مطابق رہا،آئندہ مذاکرات میں حالیہ عالمی پیشرفت کے پاکستان کی معیشت اور قرض پروگرام پر اثرات کا مزید جائزہ بھی شامل ہوگا، آئی ایم ایف نے کہا ہے اگرچہ مذاکرات میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہےتاہم یہ آئندہ دنوں میں بھی جاری رہیں گے تاکہ ان کو حتمی شکل دی جاسکے ، جن میں حالیہ عالمی پیشرفت کے پاکستان کی معیشت اور ای ایف ایف کے تحت جاری پروگرام پر اثرات کا مزید جامع جائزہ بھی شامل ہوگا، پاکستان نے اصلاحاتی ایجنڈے پر اچھا کام کیا، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات پر بھی پیشرفت ہوئی،آئی ایم ایف کے مطابق پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر وعدوں کے مطابق رہا،آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ 25 فروری سے 11 مارچ تک ہونے والے مذاکرات کا اعلامیہ جاری کردیا، آئی ایم ایف کی ٹیم کی قیادت ایوا پیٹروا نے کی ، تیسرے جائزہ مذاکرات اورریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی( آر آیس ایف )سہولت کے دوسرے جائزہ مذاکرات کراچی اور اسلام آباد کے ساتھ ساتھ ورچوئل مذاکرات ہوئے ، مذاکرات کے بعد مشن چیف پیٹروا کی جانب سے جاری بیان میں آئی ایم ایف نے اصلاحات اور ماحولیات کے شعبےمیں پاکستان کی بہترین کارکردگی کی تعریف کردی تاہم آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض توسیع پروگرام کے تحت سٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا،ای ایف ایف کے تحت پروگرام پر عملدرآمد فروری 2026 کے اختتام تک عمومی طور پر حکام کے وعدوں کے مطابق رہا۔