قارئین !اس میں کوئی دورائے نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے باہم گٹھ جوڑ کرکے صرف ایران ہی نہیں، پوری مسلم دنیا کیخلاف نئی صلیبی جنگ کا آغاز کر دیا ہے چنانچہ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک اور خطرناک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں کسی بھی غلط قدم کے نتیجے میں علاقائی تصادم ایک وسیع عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ہزاروں مسلح کْرد جنگجوؤں نے ایران کے اندر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے گزشتہ ایک سال سے ان عناصر کو منظم کر کے تربیت دے رہا تھا۔ اس کیساتھ ہی امریکی سینیٹ میں ایران کیخلاف جنگ روکنے کی قرارداد کا مسترد ہونا اس امر کی واضح علامت ہے کہ واشنگٹن کے طاقتور حلقے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھانے کے راستے پر گامزن ہیں۔یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف ایرانی قیادت کے حوالے سے انتہائی جارحانہ زبان استعمال کی بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخابی عمل میں انہیں شامل کیا جانا چاہئے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کا یہ عندیہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران کی جو قیادت باقی رہ گئی ہے، اسے بھی ختم کر دیا جائے گا۔
ایسے عزائم و اعلانات بلاشبہ کسی بھی خودمختار ریاست کیخلاف کھلی مداخلت کے مترادف اور بین الاقوامی قانون و سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی باوقار قوم اس نوعیت کے بیانات کو اپنی خودمختاری کے خلاف کھلی جارحیت کے طور پر ہی دیکھے گی۔ یقیناً اسی تناظر میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے تیز کر دیئے ہیں جبکہ اسرائیل پر ایک ٹن وزنی وارہیڈ رکھنے والے میزائل داغے جانے کی اطلاعات پر مبنی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن انتہائی خطرناک حد تک بگڑ چکا ہے اور اگر بروقت سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو صورتحال مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اس حوالے سے سعودی عرب کا یہ اعلان کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا، نہایت اہم اور قابلِ توجہ پیش رفت ہے۔ ریاض کی طرف سے اس موقف کو ایران نے خوش آئند قرار دیا ہے جو اتحادِ امت کی فضا پروان چڑھنے کے مصداق ہے۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑی طاقتوں کی پراکسی جنگوں کا میدان بنا ہوا ہے۔ کبھی عراق، کبھی شام، کبھی افغانستان اور کبھی یمن کو اس آتش فشاں کا ایندھن بنایا گیا۔ اب ایران کو براہِ راست جنگ میں دھکیلنے کی کوششیں دراصل اسی پرانی حکمت عملی کا تسلسل محسوس ہوتی ہیں۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد مسلم دنیا کو مسلسل عدم استحکام کا شکار رکھنا اور اس کے وسائل پر قابض ہونا ہے۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک اپنی باہمی رقابتوں کو پس پشت ڈال کر اتحاد اور اتفاق کی ایسی فضا قائم کر یں جو محض بیانات تک محدود نہ ہو بلکہ عملی اقدامات میں بھی نظر آئے۔ مسلم امہ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ موجودہ حالات میں مسلکی تقسیم کو ہوا دینا دراصل دشمن قوتوں کے مقاصد کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔اگر مسلم ممالک اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے ایک مشترکہ موقف اختیار کریں تو نہ صرف وہ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی زیادہ منصفانہ سمت میں لے جا سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ مسلم دنیا اپنی ترجیحات کو از سر نو مرتب کرے اور باہمی اتحاد کو عملی شکل دے۔ گزشتہ 2 دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی جنگوں نے لاکھوں جانیں لے لیں اور کروڑوں انسانوں کو بے گھر کر دیا۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنیوالی نسلیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گی۔ لہٰذا دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دی جائے۔
دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ مالکان نے کرایوں میں 20 سے40فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ اسی طرح ریلوے کے کرایوں میں بھی تقریباً اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے۔ رمضان المبارک میں پہلے ہی مہنگائی کا طوفان برپا تھا، اب اس میں مزید شدت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یکمشت فی لیٹر 55 روپے کا اچانک اور بلا جواز اضافہ عوام کے جذبات کو مشتعل کر رہا ہے۔ اس فیصلے کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومت کے اتحادی بھی مسترد کر رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن، پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف جبکہ جنرل سیکرٹری حسن مرتضیٰ نے کہا کہ ماہِ مقدس میں قیمتوں میں اضافے سے عوام کی عید کی خوشیاں ماند پڑ جائیں گی۔ عالمی سطح پر کشیدگی کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ضرور موجود تھا مگر حکومت کی جانب سے جس انداز میں قیمتیں بڑھائی گئی ہیں اسے عوام دشمنی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس قسم کا ناجائز منافع عموماً ذخیرہ اندوز اور موقع پرست عناصر حاصل کرتے ہیں۔ ادھر، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بچت کیلئے مؤثر لائحہ عمل بنایا جائے اور عوام کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جس طرح اضافہ کیا گیا ہے وہ تو عوام سے ریلیف چھیننے کے مترادف ہے۔یاد رہے کہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث عوام کیلئے تنگ آمد، بجنگ آمد کی صورتحال پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ صرف بیان بازی کے ذریعے عوام کو مطمئن کرنے کے بجائے حکومت حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کرے۔