کراچی (رفیق مانگٹ) ایرانی تیل معیشت کی شہ رگ خارگ آئی لینڈ نشانے پر، امریکی حملے پر عالمی توجہ کا مرکز، خارگ آئی لینڈ پر ایرانی فوجی اہداف تباہ، ٹرمپ کا کہنا ہے آبنائے ہرمز میں مداخلت پر تیل تنصیبات اگلا ہدف، ایران جنگ میں ایک چھوٹا سا لیکن تاریخی اور تیل کی دولت سے مالا مال جزیرہ اچانک عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس جزیرے کو غیر فعال کر کے ایران کی معیشت اور جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا،امریکہ کی حکمت عملی، ماہرین کا کہنا ہے خارگ آئی لینڈ کی تباہی سے عالمی تیل قیمتوں میں اضافہ اور کئی ممالک کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران جنگ میں ایک چھوٹا سا جزیرہ خارگ آئی لینڈ اچانک عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جزیرہ ایران کی معیشت اور توانائی نظام کی شہ رگ ہے، اسی لیے اسے نشانہ بنانا ایران پر بڑا دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔ رپورٹ کے مطابق خارگ آئی لینڈ خلیج فارس میں ایران کے ساحل سے تقریباً 20 سے30 کلومیٹر دور واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جو صوبہ بوشہر کے قریب ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً 20 مربع کلومیٹر ہے اور یہاں ایک بندرگاہ اور تیل کا بڑا برآمدی ٹرمینل موجود ہے۔یہ جزیرہ 1960 کی دہائی میں بڑے تیل ٹرمینل میں تبدیل کیا گیا اور آج ایران کی تیل صنعت کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ جزیرہ ایران کے لیے اس لیے انتہائی اہم ہے کہ ایران 85 سے90 فیصد تیل برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔ یہاں موجود ٹرمینل یومیہ لاکھوں بیرل تیل بڑے آئل ٹینکروں میں بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کئی سپر ٹینکر بیک وقت لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اسے ایران کی “اقتصادی کمزوری یا Achilles heel بھی کہتے ہیں۔