اسلام آباد (قاسم عباسی) پاکستان میں تعلیمی بحران، 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر، لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو تعلیم سے محرومی کا کہیں زیادہ سامنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گیلپ پاکستان کی جانب سے قومی سروے کے اعداد و شمار پر مبنی ایک نئے تجزیے کے مطابق، پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچےا سکولوں میں داخل نہیں ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو تعلیم سے محرومی کا کہیں زیادہ سامنا ہے۔ پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈز میژرمنٹ سروے 2024-25 اور ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے سے حاصل کردہ نتائج یہ انکشاف کرتے ہیں کہ پاکستان میں 34 فیصد لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں لڑکوں کی یہ شرح 22 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار تعلیم تک رسائی کے معاملے میں ملک میں موجود مسلسل صنفی عدم مساوات اور فرق کو نمایاں طور پر واضح کرتے ہیں۔ تعلیمی محرومی کے حوالے سے جغرافیائی فرق بھی انتہائی نمایاں ہے۔ دیہی علاقوں میں 34فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو کہ شہری مراکز میں ریکارڈ کیے گئے 18 فیصد کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں سب سے زیادہ متاثرہ گروہ ہیں، جو صنفی تفریق اور علاقائی پسماندگی کے دوہرے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان خلیجوں کے باوجود، وقت کے ساتھ ساتھ تعلیم تک مجموعی رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی سطح پر، 10 سال اور اس سے زائد عمر کے 67فیصد افراد نے زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔