تفہیم المسائل
سوال: شوال المکرم کے چھ روزے لگاتار نہ رکھ سکیں بلکہ وقفے وقفے سے رکھ کر چھ روزے پورے کیے ہوں تو کیا اسے شوال کے چھ روزے رکھنے کا اجر وثواب ملے گا؟،(محمد ابدال ، کراچی )
جواب: شوال المکرم کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے یعنی رکھنے پر ثواب ملے گا اور نہ رکھنے پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے اور مُتفرق رکھنے پر بھی اجر وثواب کا حق دار ہوگا اور متابعت کی فضیلت حاصل ہوجائے گی کہ اس نے ماہِ شوال ہی میں یہ روزے رکھے ہیں۔ احادیث میں ان کی فضیلت بیان کی گئی ہے :
(۱)ترجمہ:’’ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی مثل ہے، (صحیح مسلم:1164)‘‘۔
(۲)ترجمہ:’’ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ماہِ رمضان کے (مکمل روزے) دس ماہ کے روزوں کے برابر ہیں اور شوال کے چھ روزے دو مہینوں کے روزوں کے برابر ہیں، پس یہ روزے (کسی نے مکمل رکھے ہوں تو تمام مل کر) پورے سال کے روزے ہوگئے ،(اَلسُّنَنُ الْکُبْریٰ لِلنَّسَائِی:2873)‘‘۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ترجمہ :’’جو(قیامت کے دن) ایک نیکی لائے گا، اُسے اُس جیسی دس نیکیوں کا اجر ملے گا، (انعام :160)‘‘۔
(۳) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ:’’ اللہ تعالیٰ ہرنیکی کا اجر دس گنا عطا فرمائے گا، پس (ماہِ رمضان کااجر) دس ماہ (کے برابر) اور عیدالفطر کے بعد چھ روزوں کا اجر (مل کر) سال بھر کے روزوں کے برابر ہوجائے گا،(اَلسُّنَنُ الْکُبْریٰ لِلنَّسَائِی: 2874)‘‘۔
امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے عیدالفطر کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کو مطلقاً مکروہ قرار دیا ہے، خواہ مُتصل رکھے جائیں یا مُتفرق، تاکہ فرض پر زیادتی کے ساتھ تشبیہ نہ ہو اور امام ابو یوسفؒ نے مُتصل طورپر شوال کے چھ روزوں کو مکروہ قراردیا ہے اور مُتفرق طور پر رکھنے کو مستحب اور مسنون قرار دیا ہے۔
علامہ یحیٰ بن شرف النووی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ ہمارے اصحاب کا قول ہے : افضل یہ ہے کہ عیدالفطر کے بعد چھ روزے پے درپے اور متواتر رکھنے چاہئیں، پس اگر متفرق طورپر رکھے یا شوال کے آخر میں رکھے، تب بھی متابعت کی فضیلت حاصل ہوجائے گی کیونکہ بہرحال یہ چھ روزے شوال میں ہی رکھے گئے ہیں،(شرح النووی علیٰ مسلم،جلد8،ص:57)‘‘۔
ملک العلماء علامہ علاء الدین کاسانی حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ شوال کے چھ روزے بھی مکروہ روزوں کی اقسام میں داخل ہیں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ کا یہی قول ہے کیونکہ سَلف رمضان کے بعد روزے رکھنے کو فرض میں اضافے کے اندیشے کے سبب مکروہ سمجھتے تھے، امام مالک سے بھی اسی طرح کی روایت ہے، انھوں نے کہا: میں رمضان کے بعد چھ روزے رکھنے کو مکروہ قرار دیتا ہوں اور میں نے کسی عالم اور فقیہ کو یہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ سلف سے اس کے متعلق ہمیں کوئی روایت پہنچی ہے اور اہلِ علم ان روزوں کو مکروہ سمجھتے تھے اور بے دین لوگوں کی اس بدعت سے ڈرتے تھے کہ وہ کہیں فرض میں زیادتی نہ کردیں اور غیر رمضان کو رمضان میں شامل کردیں۔
رمضان کے بعد اس طرح چھ روزے رکھنا مکروہ ہے کہ عیدالفطر کے دن روزہ رکھے اور اس کے بعد پانچ روزے رکھے، لیکن اگر عید کے دن افطار کیا اور اس کے بعد چھ روزے رکھے تویہ مکروہ نہیں ہے بلکہ مستحب اور سنّت ہے، (بدائع الصنائع، جلد2،ص:78)‘‘۔
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com