• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں کی عیدی سے ان کی ضرورت کی اشیاء خریدنے کے احکام

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: کیا والدین بچوں کی عیدی سے بچوں کی اجتماعی ضرورت کی چیز لے سکتے ہیں؟ اگر بچے کی عیدی سے اس کے لیے کپڑے لیے، تو کیا وہ چھوٹے ہونے پر دوسرے بچے کو دے سکتے ہیں؟

جواب: بچوں کو جو رقم عیدی کے طور پر دی جاتی ہے وہ رقم اسی بچے کی ملکیت ہوتی ہے جسے دی جائے، کسی اور کے لیے اس رقم کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہوتا، اور بچہ نابالغ ہو تو اس کی اجازت بھی معتبر نہیں ہوتی۔ البتہ بچے کی ضروریات (کپڑے وغیرہ خریدنے) میں اسے خرچ کیا جاسکتا ہے، لیکن اس صورت میں بچے کی ضرورت کی جو چیز خریدی جائے گی ،وہ اسی بچے کی مملوکہ ہوگی، کسی اور کو دینا جائز نہیں ہوگا۔

البتہ بچے کے استعمال کے بعد اس چیز کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو، مثلًا: بچے کی عیدی سے اس کے کپڑے لیے گئے اور وہ کپڑے چھوٹے ہونے کی وجہ سے بچے کے کسی کام میں نہیں آسکتے تو والدین یہ کرسکتے ہیں کہ یہ کپڑے کسی اور کو دے دیں اور اس کے عوض بچوں کو ان کے مناسب کوئی کپڑا بنا کردے دیں۔ (الأشباہ والنّظائر، الفنّ الثالث، احکام الصّبی ، ص: 264، دار الکتب العلمیۃ - البحر الرائق، 7/ 288، کتاب الھبة، هبۃ الأب لطفلہ، ط: دارالکتاب الاسلامي)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید